ad

Story

کوٹ لکھپت جیل کا قیدی سب پر بھاری


شہر اقتدار میں مسلم لیگ ن کے اسیر قائد اور پاکستان کے طاقتور ترین سیاسی رہنما نواز شریف کی واپسی کی بازگشت تیزی سے پھیل رہی ہے۔نواز شریف کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے

بااثر ترین قوتیں رات کی تاریکی میں کوٹ لکھپت جیل کے طاقتور قیدی سے ملاقاتیں کررہی ہیں این آر او نہ دینے والے این آر او لینے کیلئے نواز شریف کی منتیں کر رہے ہیں معافی تلافی کی باتیں ہورہی ہیں

کوئی کچھ بھی کہے عمران خان ایک قیدی سے ہار چکے ہیں یہ قیدی جیل جانے سے قبل اتنا مقبول نہ تھا جتنا مقبول جیل جانے کے بعد ہوچکا ہے سروے بتاتے ہیں کہ پانامہ کا فیصلہ آنے کے بعد وہ لوگ جو نواز شریف کے شدید مخالف تھے اب وہ ان کے سب سے بڑے حامی بن چکے ہیں

تبدیلی لانے والے شرمندہ ہیں کہ ہم سے بڑا بلنڈر ہوگیا جسے گھوڑا سمجھا تھا وہ گدھا بھی نہ نکلا، حامد میر کے بقول مقتدر قوتوں نے نواز شریف کو پیغام بھیجا ہے کہ ہم سے زیادتی ہوگئی ہے کچھ وقت دیں تو سب کچھ ٹھیک کردیں گے

تبدیلی سرکار کی نااہلی نے پاکستان کو اس جگہ لاکھڑا کیا ہے کہ معتبر ترین صحافی جو ایک عرصے سے حکومت کے ہر غلط صحیح فیصلے پر خاموشی سے مثبت رپورٹنگ کرتے آرہے تھے ان کے تیور بھی اچانک ہی تبدیل ہوگئے ہیں

مبشر لقمان وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے گھپلے سامنے لارہے ہیں تو رؤف کلاسرا علی زیدی کے گول مال کو سامنے لارہے ہیں

بقول سید مجاہد علی چند ہفتے پہلے تک نواز شریف اور آصف زرداری کو ’این آر او‘ دینے سے انکار کرنے والی حکومت کے ترجمان اب یہ کہنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔

نواز شریف ڈیل یا این آر او کیلئے راضی نہیں بلکہ وہ ڈٹے ہوئے ہیں ۔ وہ ملک سے باہر جانے کی بجائے ملک میں عام انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نواز شریف کی مدد کے بدلے میں کی جانے والی پیش کش، کس اختیار کے تحت کی جارہی ہے؟ بظاہر تو نواز شریف ہوں یا زرداری، مریم ہوں یا خورشید شاہ، ان کے معاملات نیب اور عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

عمران خان سے زیادہ کون اس بات کو جانتا ہوگا کہ ڈیل نہ کرنے کی باتیں اسی وقت کی جاتی ہیں جب کوئی ڈیل مسلط ہونے کا اندیشہ ہو یا سیاسی جنگ میں دفاعی پوزیشن کمزور پڑ رہی ہو۔

کہتے ہیں کہ عمران خان کسی ڈیل پر تیار نہیں ہیں۔ وہ اپنے سیاسی حریفوں کو کسی قیمت پر ایک نیا موقع نہیں دینا چاہتے۔ عوام کی رائے ذرا مختلف ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت اس کا طاقتور اشارہ ہے۔

تاہم مقبولیت کا وہی اظہاریہ قابل قبول ہو سکتا ہے جو انتخابات کے ذریعے سامنے آئے۔ شاید اسی لئے مولانا فضل الرحمان حکومت گرانے کے ارادے سے اسلام آباد کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔ ایک اندیشہ یہ بھی ہے کہ اس ہنگامہ آرائی میں بیچاری جمہوریت بی ہی پردے میں نہ بٹھا دی جائیں

عمران خان اپنی سیاسی کوتاہ نظری کے سبب اگر یہ سمجھتے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے کی مدت میں توسیع کے ذریعے انہوں نے اپنی سیاسی لائف لائن میں اضافہ کیا ہے تو یہ ایک ایسا سراب ہے جس سے وہ جتنی جلد باہر نکل آئیں اتنا ہی اچھا ہوگا۔

حکومت کے سیاسی استحکام کے لئے ملک میں اطمینان بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ سماجی بے یقینی اور سیاسی بے چینی کو کم کرکے معاشی بحالی کا منصوبہ شروع کرنا ضروری ہے۔ پنجاب میں نواز شریف کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کی سیاسی طاقت کو توڑنے کی ہر کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ اگر اب کسی آئینی ہتھکنڈے کے ذریعے کراچی کا انتظام سنبھالنے کی کوئی احمقانہ کوشش کی جاتی ہے تو یہ اقدام بھی مودی حکومت کے مقبوضہ کشمیر میں کی گئی قانونی و آئینی چال بازی سے مختلف نہیں ہو گا۔

اس سے تصادم اور بے چینی میں اضافہ ہوگا۔ ملک کے چیف جسٹس بھی احتساب کی صحت، آزادی اظہار کی صورت حال اور سیاسی اختلاف پر عدم برداشت کے مزاج کو ناقابل قبول قرار دے چکے ہیں۔

وزیر اعظم کو ان اشاروں کو سمجھنے اور ان کے مطابق اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مان لینا مشکل ضرور ہے لیکن اسے جان لینے میں ہی بھلائی ہے کہ تحریک انصاف کی مقبولیت اور عمران خان کی شخصیت کا جادو ماند پڑ رہا ہے۔

اس صورت حال میں فوج کی سرپرستی کا سایہ سر سے ہٹ بھی سکتا ہے۔ سیاسی بقا اور ملکی مفاد کے لئے عمران خان کو سیاسی قوتوں کے ساتھ جنگ بندی کرنے اور ملکی میں بے چینی وبے یقینی کے ابھرتے ہوئے طوفان کو تھامنے کی ضرورت ہے

کیا یہ خبریں اس حقیقت کا اعلان نہیں کہ ملک میں حکومت، پارلیمنٹ اور عدالتوں کے علاوہ بھی کوئی ایسی ’سپر پاور ‘ موجود ہے جو کسی جادؤی چھڑی کی مدد سے چھو منتر کہہ کر معاملات کی ترتیب بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پھر نہ جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے اور نہ انصاف یا عدالتی وقار پر حرف آتا ہے۔ کوئی نہیں جان سکتا کہ کون کس کا ہاتھ پکڑ کر کیا کام کروانا چاہتا ہے اور اس کا کیا فائدہ حاصل ہوگا۔

نوا ز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں ملنے والی سزا کے خلاف اپیل پر ضمانت تو نہیں ہوئی اور سماعت مزید تین ہفتے تک ملتوی کردی گئی مگر بنچ نے اس بات کو تو یقینی بنایا ہے کہ اس مقدمہ میں سزا دینے والے جج ارشد ملک کا ویڈیو اسکینڈل سامنے آنے کے بعد جاری ہونے والی پریس ریلیز اور بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائے گئے بیان حلفی کو مقدمہ کی دستاویزات میں شامل کرلیا جائے

لیکن فاضل ججوں کو یہ غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ سپریم کورٹ میں بے وقعت ہونے والے ایک جج کے فیصلہ کے میرٹ پر غور کرنے یا اس کے خلاف اپیل پر دلائل سننے اور شواہد کا جائزہ لینے سے پہلے، اس بات پر غور کرتے ہوئے فیصلہ صادر کیا جائے کہ کیا ایک ناقابل اعتبار، مشکوک کردار کے مالک، اور اپنے ہی بیان میں جھوٹا ثابت ہونے والے جج کا کوئی فیصلہ اس قابل سمجھا جاسکتا ہے کہ اس کی پاداش میں تین بار ملک کا وزیر اعظم رہنے والے شخص کو بدستور قید رکھا جائے۔

نیب کے علاوہ جب عدالتیں بھی کسی معاملہ کو اصولی بنیاد پر پرکھنے اور بنیادی قانونی تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرنے کا حوصلہ نہیں کرتیں تب ہی ملک میں ’ڈیل‘ اور مقید لیڈروں کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوششوں کے بارے میں خبریں بھی عام ہوتی ہیں اور

ان پر طویل تبصرے کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ حکومتی معاملات سے مایوسی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اب موجودہ انتظام کو تبدیل کرنا ضروری ہوچکا ہے۔ اسی لئے کبھی شہباز شریف کے سر پر ہما بیٹھا دکھائی دیتا ہے اور کبھی نواز شریف یا آصف زرداری سے کسی ڈیل کی باتیں ہر جانب سنائی دیتی ہیں۔

اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاسی لیڈروں کی مسلسل گرفتاریاں اور عدالتوں سے انہیں ریلیف ملنے کی غیر اطمینان بخش صورت حال، ملک میں سیاسی انجینئرنگ کے تاثر کو قوی کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔

لاہور کی ایک احتساب عدالت میں گزشتہ 43 روز سے نیب کی حراست میں موجود مریم نواز کے ریمانڈ میں مزید توسیع کردی گئی۔ حالانکہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے آج عدالت میں ہی یہ کہا تھا کہ اس دوران نیب کے تفتیش کاروں نے ان سے کرپشن کے بارے میں ایک سوال بھی نہیں کیا۔

تاہم ایک مجبو رمحض کے طور پر ریمانڈ میں توسیع کرنے والے جج کو یہ سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ اگر کرپشن کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں کرنی تو مریم نواز یا دیگر لوگوں کو کس مقصد سے زیر حراست رکھا گیا ہے؟

روزنامہ 92 نیوز میں رؤف کلاسرہ نے لکھا ہے کہ وفاقی وزیر علی زیدی کے دوستوں عاطف خان‘ علی جمیل اور اب شباہت علی شاہ کی کہانیاں آپ پڑھ ہی چکے ہیں۔ ابھی نئی کہانیاں سامنے آرہی ہیں کہ علی زیدی اپنے دوست عاطف رئیس کے گھر رہتے ہیں‘ عاطف کو وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ چین لے جایا گیا اور واپسی پر عاطف رئیس کو پشاور میٹرو میں تیرہ‘ چودہ ارب روپے کا ٹھیکہ دیا گیا۔

کمال کی بات ہے اس کمپنی کو پہلے وزارت پٹرولیم میں پچاس کروڑ روپے کا ٹھیکہ ملا تو سنگین الزامات سامنے آئے‘ پھر سی ڈی اے میں سترہ کروڑ روپے کا ٹھیکہ ملا تو اس میں ایف آئی اے نے عاطف رئیس پر فراڈ کا مقدمہ درج کررکھا ہے۔

جس کمپنی پر چند کروڑ روپوں کے ٹھیکوں میں فراڈ پر مقدمے درج ہوئے‘ اسے پشاور میں تیرہ‘ چودہ ارب روپے کا ٹھیکہ دے دیا گیا۔ اب جب علی زیدی اور ان کے دوستوں کے خلاف یہ سکینڈلز آنا شروع ہوئے ہیں تو فوراً میڈیا ٹریبونل کا نعرہ لگا دیا گیا۔

ایک اور وزیر، اعظم سواتی کے خلاف سپریم کورٹ میں پانچ جے آئی ٹی رپورٹس پیش کی گئیں‘ جو ان کے کارناموں سے بھری پڑی ہیں۔ اب پتا چلا ہے علی زیدی کابینہ اجلاس شروع ہونے سے پہلے وزیر اعظم سے ملے اور اپنا رونا رویا کہ کیسے ان کے خلاف صحافیوں کا گروہ خبریں لگارہا ہے۔

عمران خان جو پیار سے علی زیدی کو ” برگر زیدی‘‘ کہتے ہیں‘ نے ان کے رونے دھونے پر کابینہ اجلاس میں یہ منظوری لے لی کہ میڈیا ٹرائل کے لیے فوری طور پر ٹریبونل بنائے جائیں‘ جو صحافیوں کو قید کی سزائیں سنائیں۔ سوائے شفقت محمود کے‘ سب وزیروں نے صحافیوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کی حمایت کی۔

عمران خان بتاتے تھے کہ اگر انہیں اقتدار ملا تو وہ کسی وزیر کو نہیں چھوڑیں گے‘ اگر اس کے بارے میں کرپشن یا مفادات کے ٹکرائو کی چھوٹی سے بھی خبر آئی۔ اب انہی کے علی زیدی جس دوست عاطف رئیس کے گھر رہتے ہیں‘ اس کی کہانیاں سامنے آنا شروع ہوئی ہیں تو وہ ابھی سے حوصلہ ہار بیٹھے ہیں۔ بس ابھی سے؟ ابھی تو چار سال پڑے ہیں۔ نئے نئے گل کھلنا باقی ہیں

منگل کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزرا میڈیا پر پھٹ پڑے تو پھر فیصلہ ہوا کہ فوری طور پر میڈیا کو لگام ڈالی جائے۔ سب وزرا کو شکایت تھی کہ پیمرا صحافیوں کو جیل کیوں نہیں بھیج رہا؟ اجلاس میں اندازہ ہوا کہ وزرا سے زیادہ تو وزیر اعظم بھرے بیٹھے ہیں اور انہوں نے اپنا ہردلعزیز الزام دہرایا کہ میڈیا پیسے لے کر ان کی حکومت پر حملے کر رہا ہے۔

ویسے یہ حیران کن ہے کہ میڈیا کے لوگ حکومت سے مراعات یا پیسے لینے کی بجائے اپوزیشن سے پیسے لے رہے ہیں؟ کمال کی حکومت ہے‘ میڈیا اس سے پیسے لینے کی بجائے کہیں اور سے پیسے لے رہا ہے‘ ورنہ اس حکومت کا تو اتنا بڑا دل ہے کہ یہ بڑے سیٹھوں کی طرف واجب الاد تین سو ارب روپے معاف کر بیٹھی تھی


Add Comment

Click here to post a comment