ad

Special Report

انہیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ ستر سالہ بوڑھا نواز شریف اتنا سخت جان ثابت ہوگا


خیال تھا کہ میاں نواز شریف کو بیمار اہلیہ سے دور رکھ کر اُنھیں پابند سلاسل رکھ کر اُن کے اعصاب کو توڑا جائے مگر اُنھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ستر سالہ بزرگ اتنا سخت جاں ثابت ہو گا ۔اپنا سب کچھ لُٹا کر بھی ووٹ کو عزت دو کی خاطر جیل کی سختیاں بھی برداشت کر گیا ۔ بیٹی کی گرفتاری بھی اس کے حوصلے کو نہ توڑ سکی وہ مرد آہن ثابت ہوا ۔

وہ کہتا ہے، میں تو سب کچھ لٹا چکا ہوں اب مُلک میں آئین اور قانون کی سپرمیسی ہونی چاہئے۔ جب یہ ہو گا تو میں ڈیل کے لیے تیار ہوں

معروف صحافی بشارت راجا نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ بیس نومبر 2018ء میاں نواز شریف العزیزیہ ریفرنس کی پیشی بھگتنے کے لیے احتساب عدالت میں موجود تھے۔ اسلام آباد کی فضاؤں میں ڈیل کی باتیں گردش کر رہی تھیں۔

کمرہ عدالت میں میاں نواز شریف سے میں نے پوچھا، ڈیل کی باتیں چل رہی ہیں ان میں کتنی صداقت ہے؟ میاں نواز شریف قدرے توقف کے بعد بولتے ہیں،

کون سی ڈیل کیسی ڈیل؟ میرے پاس کھونے کو کیا ہے۔ میں کس بات پر ڈیل کروں؟ مجھے وزرات اعظمی سے فارغ کیا گیا، اس پر بھی اُنہیں چین نہ آیا تو پارٹی صدارت سے بھی فارغ کیا گیا۔ مجھے میری بیمار اہلیہ سے دور رکھا گیا۔

اُس کی عیادت کے لیے جانے نہیں دیا گیا۔ میں تو سب کچھ کھو چُکا ہوں۔ آپ کی آنکھوں کے سامنے میری بیٹی عدالت کے کٹہرے میں کھڑی کی گئی۔ اب میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں بچا۔

کچھ رک کر میاں نواز شریف نے ترنت مجھ سے پوچھا، آپ حسین شہید سہروردی کے بارے میں جانتے ہیں؟ اُس کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اُن کا کیا قصور تھا یہی نہ کہ وہ آئین اور قانون کی سپرمیسی (بالادستی) کی بات کرتا تھا۔ اُسے پاکستان دشمن اور انڈین ایجنٹ قرار دیا گیا۔ ہمارا المیہ یہی ہے کہ یہاں جو قانون کی سپرمیسی کی بات کرتا ہے اُسے انڈین ایجنٹ اور وطن دشمن قرار دیا جاتا ہے ۔

میرے اجداد کی قبریں یہاں ہیں۔ تین بار اس مُلک کا وزیراعظم رہا ہوں۔ میں وطن دشمن کیسے ہو سکتا ہوں۔ انھوں نے مجھے حسین شہید سہروردی کی طرح فارغ تو کر دیا مگر میں مُلک چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔

حسین شہید سہروردی کو پہلے مسلم لیگ سے نکالا گیا، اور ایسا ماحول پیدا کیا گیا کہ وہ پاکستان میں داخل ہونے ہی نہ پائے۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ یہاں کی نوکر شاہی کے نامزد گورنر جنرل مرحوم غلام محمد کو اپنے جوڑ توڑ کو مقبولِ عام بنانے کے لیے اسی سہروردی کے تعاون کی شدید ضرورت محسوس ہوئی، چنانچہ اس کو جنیوا سے بلا کر پاکستان کا وزیرِ قانون بنایا گیا۔

سکندر مرزا حسین شہید سہروردی کو سخت ناپسند کرتا تھا۔ اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے کچھ مہینوں کے لیے وزیرِ اعظم بھی بننے دیا گیا۔ آخر میں ایوب خان کا دور آیا اور اسی وزیرِاعظم کو جیل میں ڈال دیا گیا اور ”ایبڈو“ کے تحت سیاست کے لیے نا اہل قرار دے دیا گیا۔ اُنھیں کراچی کی جیل میں قید تنہائی میں رکھا گیا تھا جب بنیادی جمہوریت کے انتخابات مکمل ہو گئے تو سہروردی کو 19 اگست 1962ء کو رہا کر دیا گیا تھا۔

اس قدر بے آبروئی کے بعد وہ غریب جان چھڑا کر ملک سے ہی باہر نکل گیا اور وہیں جا کر مرنا بھی منظور کر لیا۔ (اُن کی وفات کے عشروں بعد ان کی بیٹی بیگم اختر سلیمان کا اخباری انٹرویو شائع ہوا تھا جس میں یہ راز کھولا گیا ہے کہ سہروردی مرحوم طبعی موت نہیں مرے تھے، بلکہ انہیں نوکر شاہی نے مروایا تھا)۔

قارئین کو یاد ہو گا 2016 میں سابق سپہ سالار کی مدت ملازمت میں چند ماہ باقی تھے۔ اسلام آباد سمیت پورے ملک کی شاہراہوں پر “جانے کی باتیں جانے دو” کے بینرز آویزاں کیے گئے تھے یہ وہ دور تھا جب میاں نواز شریف کو کہا گیا کہ مدت ملازمت میں توسیع دی جائے اور آپ اگلی مدت کے لیے بھی حکومت کریں۔ مگر میاں نواز شریف نے آئین اور قانون کو مقدم رکھتے ہوئے توسیع دینے سے انکار کر دیا۔ میاں نواز شریف اس سے پہلے بھی ایک غلطی کر چُکے تھے کہ انھوں نے مشرف کو کہٹرے میں لاکھڑا کیا تھا ۔

جنرل مجید ملک مرحوم اپنی کتاب “ہم بھی وہاں موجود تھے” میں لکھتے ہیں کہ “پاکستان فوج ایک مضبوط اور منظم ادارہ ہے بدقسمتی سے اسے ماضی سے ایسی عادتیں پڑی ہوئی ہیں کہ اس نے اپنے آپ کو ایک قسم کی سپرپاور سمجھنا شروع کر دیا ” پھر سپرپاور کس طرح گوارا کر سکتی تھی کہ ایک کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے اور دوسرے کو توسیع نہ دی جائے۔ اس دن سے میاں نواز شریف مقتدرہ کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا ۔

اب کی بار سازش میں عدلیہ کا کندھا استعمال کیا گیا ۔ پانامہ آیا، سابق چیف جسٹس انور ظہیرجمالی کی عدالت میں درخواستیں دائر کی گئی کہ میاں نواز شریف کو نااہل کر دیا جائے۔ دوران سماعت انھوں نے پانامہ کو افسانوی قرار دیا۔ جسٹس ثاقب نثار چیف جسٹس بنتے ہیں اور کیس عزت مآب جسٹس کھوسہ کے پاس جاتا ہے تو وہ ریمارکس دیتے ہیں کہ آپ کو پہلے ہی ہمارے پاس آنا چاہئے تھا۔ باقی سب تاریخ ہے۔

خیال تھا کہ میاں نواز شریف کو بیمار اہلیہ سے دور رکھ کر اُنھیں پابند سلاسل رکھ کر اُن کے اعصاب کو توڑا جائے مگر اُنھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ستر سالہ بزرگ اتنا سخت جاں ثابت ہو گا ۔اپنا سب کچھ لُٹا کر بھی ووٹ کو عزت دو کی خاطر جیل کی سختیاں بھی برداشت کر گیا ۔ بیٹی کی گرفتاری بھی اس کے حوصلے کو نہ توڑ سکی وہ مرد آہن ثابت ہوا ۔

عمران خان کو لا کر ایک تجربہ کیا گیا، یہ تجربہ نہ صرف ناکام ہوا بلکہ تجربہ گاہ ہی ستیاناس ہو گئی، تجربہ کرنے والوں کو تجربہ گاہ بچانے کی فکر لگی ہوئی ہے۔

تجربہ گاہ بچانے کی خاطر وہ میاں نواز شریف کی طرف دست تعاون بڑھا رہے ہیں۔ میاں نواز شریف اپنی شرائط پر ڈیل کرنے کے لئے تیار ہے ۔ وہ کہتا ہے، میں تو سب کچھ لٹا چکا ہوں اب مُلک میں آئین اور قانون کی سپرمیسی ہونی چاہئے۔ جب یہ ہو گا تو میں ڈیل کے لیے تیار ہوں

دوسری جانب روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں صحافی طارق بٹ نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ڈیل کے حوالے سے بات چیت پھر سے زیر بحث آنے لگی ہے جیسا کہ مختلف پارٹی لابیز سے تعلق رکھنے والے نون لیگ کے سینئر رہنماء اپنی وضاحتیں دے رہے ہیں۔

دی نیوز سے آن دی ریکارڈ اور آف دی ریکارڈ گفتگو کرتے ہوئے وہ اس بات پر متفق تھے کہ نواز شریف کو کی جانے والی پیشکش بحیثیت مجموعی ویسی ہی ہے جو انہیں جب وہ لندن میں تھے تو عام انتخابات جولائی 2018 سے پہلے دی گئی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کا جواب اس وقت بھی وہی تھا اور اب بھی واضح الفاظ میں یہی ہے کہ آپ نے جو میرے ساتھ کیا ہے اسے واپس لیں اور میرے خلاف کی گئی کارروائیوں پر علی الاعلان معافی مانگیں۔

مسلم لیگ نون کے سینئر رہنما سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کے پاس نواز شریف کو پیشکش کرنے کے علاوہ کچھ نہیں، جب بھی کسی مقدمے میں ان کے خلاف فیصلے کا اعلان ہونے والا ہوتا ہے، ڈیل کے حوالے سے گفتگو مختلف فریقین کو پیغام دینے کیلئے جان بوجھ کر پھیلا دی جاتی ہے۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اپنے اصولوں کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں سے ان کی تذلیل کرنے اور بدنام کرنے کا ہر قدم اٹھایا گیا ہے، ان کی صاحبزادی کو ان کی آنکھوں کے سامنے گرفتار کیا گیا،

وہ ان سے نہیں مل سکتیں، کیا آپ اس طرح کے کسی شخص سے ڈیل کی توقع کرسکتے ہیں جس نے اتنا کچھ برداشت کیا اور جمہوری مقصد کیلئے جامع تکلیف برداشت کر رہے ہیں۔

نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں اہم وزارت رکھنے والے ایک اور نون لیگی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی نیوز کو بتایا کہ وہ سابق وزیر اعظم کو ڈیل پر قائل کرنے کیلئے ثالث کا کردار ادا نہیں کر رہے، ان پر بہتان لگایا جارہا ہے۔

نواز شریف سے رابطے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سے ان کا رابطہ چند افراد کے ذریعے ہے جنہیں جیل حکام نے ان سے ملنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان کی صحت کے حوالے سے پوچھتے رہتے ہیں اور اپنا سلام بھجواتے رہتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون میں بعض افراد ایسے ہیں جو اپنے ہی علاقوں سے ووٹ حاصل نہیں کرپاتے، جو ان کی طرح کے رہنماؤں کو بدنام کرتے ہیں اور ڈیل کے حوالے سے افواہیں پھیلتے ہیں۔ انہوں نے ان کا نام بتانے سے انکار کردیا۔

ایک اور نون لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ انہوں نے سابق وزیر اعظم کو کسی بھی ڈیل کیلئے قائل کرنے کی کوشش کبھی نہیں کی جو مسلم لیگ نون کیلئے تباہ کن ثابت ہوگی۔

جبکہ سینیٹر پرویزرشید نے کہا کہ نوازشریف کسی صورت ڈیل نہیں کریں گے اور انصاف کا دوہرا معیار ہونے کے باوجود عدالت سے رہا ہوں گے۔حزب اختلاف کی تمام جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں گی۔ عمران خان نئے انتخابات کے لیے راہ ہموار کریں یا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ آنے والے بھونچال کا سامنا کریں۔

ایک انٹرویو میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر پرویزرشید نے کہا کہ نوازشریف کسی صورت ڈیل نہیں کریں گے اور انصاف کا دوہرا معیار ہونے کے باوجود عدالت سے رہا ہوں گے۔ ایسا لگتا ہے نوازشریف اغوا برائے تاوان والوں کے پاس ہیں۔ ڈیل کی بحث کرنے والے خود نہیں جانتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور بات طے ہے کہ ن لیگ کبھی بھی ڈیل کی صورت میں اپنی قیادت کی رہائی نہیں چاہتی۔

پرویز رشید نے کہا کہ نوازشریف کو لندن میں پیغام ملے تھے کہ وہ واپس نہ آ ئیں اور سیاست سے کنارہ کشی کر لیں لیکن ن لیگی قائد نے ایسا نہیں کیا۔سینٹ انتخاب میں 14 لوگوںکا اپنا ضمیر بیچنا افسوسناک ہے لیکن اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں۔

حزب اختلاف کی تمام جماعتیں اپنا اپنا حصہ ڈالیں گی۔ عمران خان نئے انتخابات کے لیے راہ ہموار کریں یا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ آنے والے بھونچال کا سامنا کرے

علاوہ ازیں اہل خانہ سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا اپنے لیے قانونی جنگ ہی لڑوں گا ،ووٹ کو عزت دو کے بیانئے پر قائم ہوں ،سابق وزیر اعظم نے کہا موجودہ حکومت جلد اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے ،ہمیں این آر او کا طعنہ دینے والے بہت جلد عوام سے این آر او مانگیں گے یہ ہی عوام موجودہ حکومت کا احتساب کرینگے ۔

نواز شریف نے مسئلہ کشمیر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا جموں کشمیر کے حالات پر دنیا کو جاگناہوگا ،مقبوضہ کشمیر میں بھارت ظلم کر رہا ہے، دنیا آگے بڑھ کر اس مسئلے کو حل کروائے،اہل خانہ نے نواز شریف سے ان کی خیریت دریافت کی جبکہ نواز شریف نے بھی اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کی خیریت دریافت کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال ،نیب کیسز سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں شریک ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے نواز شریف کا طبی معائنہ بھی کیا۔نواز شریف اورشریف خاندان سے اظہاریکجہتی کے لئے جیل کے باہر موجود کارکنان قیادت کے حق میں اور حکومت کیخلاف نعرے لگاتے رہے۔