ad

میرا نقطہ نگاہ

رانا ثناء اللہ کی گرفتاری اور ن لیگ – محمد اشفاق


بریگیڈیئر حمید ڈوگر صاحب کی سرکردگی میں قائم سپیشل انویسٹیگیشن سیل نے بالآخر رانا ثنا اللہ کو گرفتار کر ہی لیا۔

فرنٹ مین اور وعدہ معاف گواہ پہلے سے تیار ہیں۔ غالباً رانا صاحب بھی حنیف عباسی والے انجام کو پہنچنے جا رہے ہیں۔

اس معاملے میں سب سے افسوسناک بات فوج کی براہ راست نگرانی میں قائم ادارے کو استعمال کیا جانا نہیں ہے۔

اس سے بھی زیادہ شرمناک رانا صاحب کی پارٹی کا ردعمل ہے جو صرف سلیکٹڈ کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں سلیکٹرز کو نہیں۔

اگر ایسی ہی مٹھی مٹھی ڈھولکی بجانی ہے تو پھر آپ پہلے سو جوتوں کے بعد خود کو سو پیاز کھانے کیلئے بھی تیار کر لیجئے۔

پارٹی میں فارورڈ بلاک بننے کی راہ میں سے ایک بڑی رکاوٹ ہٹا دی گئی ہے- اب دیکھیں رانا مشہود کی گاڑی میں سے کیا برآمد ہوتا ہے-

غالباً یہ سمجھا گیا ہے کہ صرف ایک ادارے سے مخالفین کے خلاف کاروائیاں اس ادارے اور ہینڈلرز دونوں کیلئے سبکی کا باعث بن رہی ہیں۔

اس لئے اب “احتساب” زیادہ وسیع اور ہمہ گیر ہونے جا رہا ہے- کچھ عجب نہیں کہ محکمہ انہار اور جنگلات بھی میدان میں کود پڑیں۔

مجھے اس کاروائی بلکہ ایسی تمام کاروائیوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے- جو آپ کرنا چاہتے ہیں کر ڈالئے۔ پانچ چھ ہزار بندے لٹکا دیجئے۔

آٹھ دس ہزار جیلوں میں ڈال دیجئے۔ خود بیک سیٹ سے اٹھ کر فرنٹ سیٹ پہ آ جائیں۔ جو ہو سکتا ہے کر لیں۔

یہ ملک پھر بھی آپ سے چلنا نہیں ہے اور سیاستدانوں کو آپ نے چلانے دینا نہیں ہے۔ بہتر ہے پاکستان کو او ایل ایکس پہ ڈال دیں۔