ad

میرا نقطہ نگاہ

مریم نواز: جگر ہو گا تو عقاب آئے گا


محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری اور میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز شریف کی ملاقات نے نوجوان قیادت کے امکانات میں اضافہ کر دیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری تو اپنی جماعت (پاکستان پیپلز پارٹی) کے چیئرمین ہیں اور بطور سربراہ تمام اختیارات کے مالک ہیں۔

مریم کا معاملہ مگر مختلف ہے۔ وہ پارٹی کے سولہ نائب صدور میں سے ایک ہیں۔

ان کے اوپر شاہد خاقان عباسی بطور سینئر نائب صدر موجود ہیں اور پارٹی (مسلم لیگ نواز) کی صدارت ان کے چچا، میاں شہباز شریف کے ہاتھ میں ہے۔ گویا پارٹی کے دستور کے تحت مریم کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔

لیکن ہماری روایات اور قومی مزاج کے پیش نظر، رسمی عہدے، کم از کم عوام کی نظر میں زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔

جس طرح بلاول کی اصل طاقت اور عوامی مقبولیت کا سبب اس کا چیئرمین ہونا نہیں، بے نظیر کا بیٹا اور ذولفقار علی بھٹو کا نواسا ہونا ہے۔

اسی طرح نائب صدر ہونا مریم نواز کے لئے کچھ معنی نہیں رکھتا۔ اس کی طاقت اور مقبولیت کی وجہ نواز شریف کی بیٹی ہونا ہے۔

وراثت کی سیاست کا ذکر پھر کبھی سہی، آج صرف اسی قدر کہ سیاسی میراث ذرا مختلف چیز ہے۔

ذولفقار علی بھٹو کے دو بیٹے تھے۔ مرتضیٰ بھٹو تو بے حد متحرک اور سیاست میں خاصے سرگرم بھی تھے۔ خود بیگم نصرت بھٹو ان کی پشت پر تھیں لیکن چراغ صرف بے نظیر بھٹو کا جلا۔

لوگوں نے بی بی کے چہرے میں ذولفقار علی بھٹو کا چہرہ دیکھا۔ ان کی آواز میں بھٹو کی آواز سنی اور بھٹو کی سیاسی میراث بینظیر کی جھولی میں ڈال دی۔ کچھ یہی حال مریم نواز کا بھی ہے۔

میاں نواز شریف کے قریبی حلقے جانتے ہیں کہ میاں صاحب اپنی بیٹی کو سیاست میں لانے سے ہمیشہ گریزاں رہے۔

یہی وجہ ہے کہ اپنی معزولی کے بعد جی۔ ٹی روڈ کے راستے لاہور آتے ہوئے انہوں نے مریم کو شریک سفر نہ کیا۔

دوستوں کے مشورے اور اصرار کے باوجود حلقہ این۔ اے 120 لاہور کے لئے ٹکٹ مریم کے بجائے اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کو دے دیا۔ لیکن قدرت کے کچھ اپنے فیصلے بھی ہوتے ہیں۔

مریم کو بہ امر مجبوری اپنی والدہ کی انتخابی مہم چلانا پڑی۔ لوگوں نے پہلی بار نواز شریف کی بیٹی کا سیاسی چہرہ دیکھا۔ پھر حالات و واقعات اپنی کہانی لکھتے چلے گئے۔

یہاں تک کہ مریم اپنے والد کے ساتھ اڈیالہ جیل پہنچ گئی۔ اس دن سیاسی مبصرین نے کہا تھا کہ منصوبہ سازوں نے نادانی میں شریف خاندان کی میراث کا تاج مریم کے سر پر رکھ دیا ہے۔

آج وہ ایک نئے لیڈر کے طور پر اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ اس کے دونوں بھائی اور ایک بہن دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔

آج پاکستان کے لوگ اس کے چہرے میں نواز شریف کا چہرہ دیکھتے اور اس کی آواز میں نواز شریف کی آواز سنتے ہیں۔ عہدے سے قطع نظر، وہ اس وقت مسلم لیگ (ن) میں بڑے قد کاٹھ کی لیڈر بن چکی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ دو بڑی روایتی جماعتوں کی یہ نئی نوجوان قیادت، کیا پاکستان کے مسائل سمجھتی ہے؟

کیا انہیں اندازہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کیوں مستحکم نہیں ہو سکی؟ کیا انہیں معلوم ہے کہ تقریبا 34 سال ہمارے ہاں فوجی آمریت رہی؟ کیا انہیں خبر ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے حقیقی اسباب کیا تھے؟

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا اقتدار کے کھیل میں ایک دوسرے کو دغا دے کر اسٹبلشمنٹ سے ساز باز کرنے کے نتائج کو وہ سمجھتے ہیں؟

دونوں سے امیدیں وابستہ کرنے والوں کا خیال ہے کہ وہ حالات تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ نوجوان شدید مایوسی کا شکار ہیں

جنہوں نے عمران خان سے بڑی امیدیں وابستہ کی تھیں۔ ابھی ایک سال بھی نہیں گزرا اور وہ کھلے عام اپنے غم وغصہ کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ ایک کروڑ نوکریاں تو اب خواب و خیال ہو چکیں۔

روزگار کے مواقع مزید سکڑ گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بیس لاکھ افراد پچھلے دس ماہ میں روزگار گنوا بیٹھے ہیں۔

صنعتی اور کاروباری سرگرمیاں ماند پڑنے سے بے روزگاری مزید بڑھ رہی ہے۔

خیبر پختونخواہ میں صرف اس لئے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 63 سال کی جا رہی ہے کہ آئندہ تین سال تک حکومت پنشنوں اور دیگر واجبات کی ادائیگی سے بچی رہے۔

لیکن اس بچت کے دوسرے معنی ہیں کہ آئندہ تین سال کے لئے نوجوانوں کے بر سر روزگار آنے کے دروازے بند کر ہو جائیں گے۔

تعلیم کے بجٹ میں زبردست کٹوتی کا براہ راست منفی اثر بھی نوجوانوں پر ہی پڑ رہا ہے۔

ان حالات میں ایک سیاسی خلا تیزی سے پیدا ہو رہا ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لئے کوئی سیاسی جماعت یا شخصیت میدان میں نہیں۔

بوجوہ آصف زرداری اور نواز شریف جیلوں میں ہیں۔ دونوں کی عمر اور صحت بھی سر گرم سیاست کی سکت نہیں رکھتی۔

لیکن یہ بات مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اب بھی ایک بڑا ووٹ بنک رکھتی ہے اور پیپلز پارٹی کا کھونٹا آج بھی سندھ میں بڑا مضبوط ہے۔

دونو ں جماعتوں کی سینئر قیادت کو پس منظر میں دھکیل کر بھی اور الزامات کی بارش کے باوجود، ان کے ووٹ بنک کو کمزور نہیں کیا جا سکا اور اب تحریک انصاف سے مایوس عوام ایک بار پھر پرانے ٹھکانوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

مریم اور بلاول کا کام آسان نہیں۔ انہیں یہ باور کرانا ہو گا کہ وہ واقعی نئی سیاست کا پیغام لے کر آئے ہیں۔

پرانی، فرسودہ اور بیمار سیاست کو دفن کر کے باہمی تعاون اور اشتراک عمل کی سیاست جو ذاتی اور جماعتی مفاد سے بالاتر رہتے ہوئے، اصولوں پر یقین رکھتی ہو۔

بظاہر مریم اور بلاول کے بیانیہ میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ وہ آئین کی بالا دستی، جمہوریت کی مضبوطی اور اداروں کے اپنی حدود کے اندر رہنے کی بات کرتے ہیں۔

یہ وہ بیانیہ ہے جس کی سزا بینظیر بھٹو بھگت چکیں۔ اسی بیانئے کی سزا نواز شریف کاٹ رہے ہیں۔ لہذا مریم اور بلاول کا راستہ بھی آسان نہ ہو گا۔

دیکھنا ہو گا کہ وہ نوجوانی کے جذبات کی گرمی اور سیاسی حکمت و دانائی کو کس طرح ساتھ لے کر چلتے ہیں۔

میاں نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری، عمران خان اور صف اول کے تقریبا سبھی سیاستدان، ساٹھ سال اور بعض تو ستر برس سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔

فضا ایک نوجوان، لیکن بہادر اور ہوش مند قیادت کے لئے ساز گار ہو رہی ہے۔ اگر مریم اور بلاول اپنے مشن کے تقاضوں کو سمجھ کر، اپنا سفر جاری رکھیں تو وہ واقعی ”پیروں کے استاد“ بن سکیں گے۔

لیکن ہماری تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ سفر کافی صبر آزما اور کٹھن ہے۔