ad

میرا نقطہ نگاہ

نعرے نہیں علاج تجویز کیجئے-ملک جہانگیر اقبال


ناک بچانے کی خاطر شادی کے معمولی خرچ پر بھی چار سے پانچ لاکھ تو لگ ہی جاتے ہیں اور یہ یقیناً کم سے کم خرچ بتایا ہے ۔ یہ رقم متوسط گھرانے میں جمع ہوتے ہوتے لڑکے کے سر پر سفیدی چمکنے لگتی ہے جبکہ لڑکی والوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ۔ ایسے میں نکاح جیسی “لگژری” کوئی کیسے افورڈ کرے ؟

حیا کا کلچر عام کرنا اور ڈیٹ کے بجائے نکاح کا نعرہ جتنا خوبصورت اتنا ہی پہنچ سے دور ہے ۔ کیا ہی بہتر ہو کہ احتجاج اس بات پر ہو کہ کوئی غریب ہو یا امیر یہ شادی ہال کلچر کا خاتمہ کیا جائے اور ولیمہ پر سو افراد سے زائد پر پابندی لگا دی جائے ۔ علماء اس پر فتوی جاری کریں اور اسلامی نظریاتی کونسل اس پر سفارشات مرتب کرے اور اسمبلی میں منظوری کیلئے بل بھیجے ۔

یہاں 16 ٍ 17 سال میں نازل ہوجانے والی جوانی کو آپ چاہتے کہ مزید بیس سال تک کوئی پاکیزگی سے سنبھالے رکھے تو جناب یہ کام تو ولیوں والا ہی ہوا اب عام بندا تو بے حیائی یا فحاشی کا کوئی طریقہ تو اختیار کرے گا ہی ۔ ویلنٹائن ڈے میں کوئی پارٹنر نصیب نا ہوا تو قبروں میں مری ہوئی عورتیں تو ہیں ہی ۔ انہیں بھی کہاں کوئی بخشتا ہے ؟
لہذا نعرے نہیں علاج تجویز کیجئے !