ad

News Report

کھیل دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا


حامد میر نے کہا ہے کہ بدھ کو نواز شریف کی اپیل کی سماعت کے موقع پر ن لیگ کے بہت سے سینئر رہنماؤں کا خیال تھا کہ بدھ کو شاید نواز شریف کی ضمانت ہوجائے گی یا کوئی ایسا فیصلہ آئے گا جس سے ن لیگ کو ریلیف مل جائے گا،نواز شریف فی الحال خود جیل سے باہر آنے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں، انہیں پتا ہے کہ وہ جیل میں رہیں گے تو حکومت پر دباؤ رہے گا ۔

جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نواز شریف کو جیل سے رہائی کی کوئی جلدی نہیں ہے، سینئر تجزیہ کار و صحافی حامد میر نے کہا کہ عمران خان جب بھی کہتے ہیں کہ میں این آر او نہیں دوں گا اپوزیشن کا کوئی لیڈر گرفتار ہوجاتا ہے

حامد میر نے کہا کہ حکومت کیلئے انتہائی خطرناک وقت ہے جیل میں قید نواز شریف کو باہر آنے کی کوئی جلدی نہیں خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ وہ تین ماہ میں دلائل مکمل کریں جس سے کلیئر ہوگیا کہ نواز شریف ڈیل نہیں مانگ رہے بلکہ وہ مزید جیل میں رہنا چاہتے ہیں

ن لیگ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں جارہی ہے جبکہ پیپلزپارٹی بھی اب شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کررہی ہے

جبکہ معروف صحافی عمار سعود نے لکھا ہے کہ اصل خبر یہ ہے کہ اسلام آباد کے ڈرائنگ روموں میں تبدیلی کی تباہی پر تاسف کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تبدیلی کا ساتھ دینے پر ندامت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اپنے دس سالہ خوابوں کے چکنا چور ہونے پر ماتم کیا جا رہا ہے۔ عمران خان کی نا اہلی اور لا ابالی پن پر طنز کیے جا رہے ہیں۔

ایک دوسرے کو اس صورت حال پر طعنے دیے جا رہے ہیں۔ اب ڈیمج کنٹرول کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اب ہاتھوں سے جرم کے نشانات کو مٹایا جا رہا ہے۔ اب تبدیلی سے منہ کو چھپایا جا رہا ہے۔ موجود بحران کے حل کے لئے تجاویز مانگی جا رہی ہیں۔ مصالحت کا کوئی نیا فارمولہ ایجاد کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب انصاف کے در سے انصاف شروع ہو چکا ہے۔ تبدیلی کا سفر وہی سے شروع ہوا تھا اور وہیں سے اس کے انجام کے بارے میں سوچ جا رہا ہے۔ منصفوں کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ ترازو کے دونوں پلڑے برابر کیے جا رہے ہیں۔ غداری کے فتوے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ توہین عدالت کے کیس خال خال نطر آ رہے ہیں۔ نواز شریف سے مصالحت کی کوئی راہ نکالی جا رہی ہے۔

اس عمل کا آغاز مریم نواز کے خلاف مسلم لیگ ن کی نائب صرد سے نا اہلیت کی درخواست رد ہونے سے ہوچکا ہے۔ اس ایک فیصلے سے نشانیاں مل رہی ہیں۔ مریم نواز ہر بحران سے نکل رہی ہیں۔ یہ سب ایک تحریک انصاف کے خود ساختہ ہوائی قلعے کے انہدام کے لئے ہو رہا ہے۔

طریقہ نمبر دو استعمال کیا جا رہا ہے۔ اپنے ہاتھوں سے تعمیر کی گئی عمارت کی بنیادوں میں بارود بھرا جا رہا ہے۔ مریم نواز کے کیس کے فیصلے سے دیا سلائی جلا دی گئی ہے۔

لیکن یہ ”خلائی قلعہ“ اس دن زمین بوس ہو گا جس دن نواز شریف کو کرپشن کے ہر کیس میں کلین چٹ مل جائے گی۔ اس وقت عمران خان کا کرپشن کے خلاف بنایا یہ قصر دھڑام سے زمیں پر آن گرے گا۔ یہ اتنی برق رفتاری سے ہوگا کہ دیکھنے والی آنکھوں کو یقین نہیں آئے گا۔

کیونکہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ نواز شریف جیل میں صعوبتیں نہیں برداشت کر رہے بلکہ جیل میں انجوائے کر رہے ہیں۔ فی الوقت یہ کہہ دینا کافی ہے کہ اس ”خلائی قصر کرپشن“ کے انہدام میں اب زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ دیا سلائی جل چکی ہے کسی بھی وقت بارود کے فتیلے کو آگ دکھائی جا سکتی۔

انگریزی چینلوں کی ڈاکومنٹریز میں کسی بھی عمارت کو گرانے کے دو طریقے دکھائے جاتے ہیں۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ امتداد زمانہ کے سبب عمارت دہائیوں میں بوسیدگی کی اس انتہا پر پہنچ جاتی ہے کہ رفتہ رفتہ انہدام اس کا مقدر بن جاتا ہے۔

ہر اینٹ، مٹی ہو جاتی ہے اور ہر بنیاد میں ریت در آتی ہے۔ ہر دراڑ، شگاف بن جاتی ہے اور ہر دیوار برسوں لرزنے کے بعد دھڑام سے گر جاتی ہے۔ دوسرا طریقہ زیادہ موثر اور برق رفتار ہے۔

اس میں کسی ایک بنی بنائی نئی عمارت کی بنیادوں میں بارود بھر دیا جاتا ہے۔ ہر دیوار، ہر شگاف میں نہایت ہنر مندی سے باردو کے فتیلے رکھ دیے جاتے ہیں اور پھر ایک دن فیصلہ کر کے اس بارود کو آگ دکھا دی جاتی ہے۔

لمحوں میں بنی بنائی عمارت زمیں بوس ہو جاتی ہے۔ چھت سے لے کر بنیاد تک سب راکھ ہو جاتا ہے۔ خاک ہو جاتا ہے۔ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے انہدام کے لئے طریقہ نمبر دو استعال ہو رہا ہے۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے کی تو بات ہے جب سارے چینل چیخ چیخ کر عمران خان کی شرافت و نجابت کے قصے سنا رہے تھے۔ تبدیلی کو ستر سالہ صبر کا میٹھا پھل بتا رہے تھے۔ سوشل میڈیا کے نوجوانوں کی سیاست میں شمولیت کو ملک کا سب سے بڑا انقلاب بتا رہے تھے۔

کپتان کے اعلی و ارفع ٹیم بنانے کی صلاحیت کو گنوا رہے تھے۔ اپوزیشن کی کرپشن کے قصے گنواتے یہ تھکتے نہیں تھے۔ ٹاک شوز میں بے نامی ثبوتوں کے کاغذات فضا میں لہرا رہے تھے۔

اب وہی زر خرید لوگ ہیں جو گزشتہ حکومت کے لتے لے رہے تھے اب ان کو بی آر ٹی بھی نظر آ رہی۔ وزارت صحت میں کرپشن بھی دکھائی دے رہی ہے۔ پنجاب پولیس کی نا اہلی بھی گنوائی جا رہی ہے۔ معیشت کی حالت زار پر یہ ٹسوے بہا رہے ہیں۔

غریب آدمی کی ابتر صورت حال ان کو کسی شومیں چین نہیں لینے دیتی۔ پنجاب حکومت کی بری کارکردگی ان کو پریشان کیے ہوئے ہے۔ لیکن حکومت کی یہ صورت حال صرف میڈیا تک محدود نہیں ہے۔ اب سوشل میڈیا پر گالیاں دینے والے بھی خال خال نظر آ رہے ہین۔ ٹرولز کی ڈیوٹیاں کم ہو رہی ہیں۔

ایسے موقعوں پر چند جہاندیدہ حکومتی سیاستدان فرار کے نت نئے رستے بتا رہے ہیں۔ کوئی حکومت کے ایوانوں میں فارورڈ بلاک کی نوید دے رہا ہے۔ کوئی وزراء کے ذو معنی بیانات کے مفاہیم تلاش کر رہا ہے۔

جو پہلے کہتے تھے ہم این ار او نہیں دیں گے وہ اب سہواً کہہ رہے ہیں کہ ہم این آر او نہیں لیں گے۔ خان صاحب کے دوست احباب اچانک حکومتوں سے فارغ ہو رہے ہیں اور تو اور انہدام کی اس سے بڑی بشارت کیا ہو گی کہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری سیاست سے تائب ہو چکے ہیں۔

نواز شریف سے اہم لوگوں کی ملاقاتوں کی خبریں منظرعام پرآ چکی ہیں۔ یہ دیکھا جا رہا ہے کون، کس کو، کتنی رعایت دینے کو تیار ہے۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے مستقبل کے لائحہ عمل کے لئے دو طرفہ پالسی اختیار کی جا رہی ہے۔ ایک طرف تو مولانا فضل الرحمن کے متوقع انقلاب سے ہاتھ ملایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب سے دھیرج دھیرج کا پیغام دیا جا رہا ہے۔ اچانک نواز شریف کی اپنے جان نثاروں اور وفاداروں سے ملاقات کروائی جا رہی ہے۔ نیب بھی کچھ عرصے سے مزید گرفتاریوں سے اجتناب کر رہا ہے۔ سیاسی انتقام کے کھیل میں اب اس کی دلچسپ ویسی نہیں رہی ہے۔

کشمیر کے مسئلے پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔ آدھا گھنٹہ ٹریفک روکنے اور مظفر آباد میں ایک ناکام جلسے کے بعد کشمیر پالیسی کو قرار آ چکا ہے۔ امریکہ سے افغانستان کے پر امن تصفیے کے لئے جن ڈالروں کے آنے کی نوید تھی وہ بھی ٹرمپ کے ایک ہی بیان سے دم توڑ چکی ہیں۔

آئی ایم ایف بھی اگلی قسط دینے سے پہلے آنکھیں دکھا رہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی تلوار حکومت کے سر پر لٹک رہی ہے۔ مہنگائی کا جن کسی طرح قابو ہی نہیں آ رہا۔ عام آدمی کی حالتِ زار روز بہ روز خستہ ہوتی جا رہی ہے۔

جو کہ کوئی نئی بات نہیں لیکن اس خستگی کو جو آواز مل رہی ہے وہ حکومت کے لئے تشویش ناک بات ضرورہو سکتی ہے۔

سینئر تجزیہ کار و صحافی حامد میر نے کہا کہ خورشید شاہ کو کافی دنوں سے پتا تھا کہ نیب انہیں پکڑنے والی ہے، کچھ دنوں پہلے خورشید شاہ نے مجھ سے کہا کہ مجھ سے بلینک چیک لے لو، نیب والے جتنے ارب روپے کا مجھ پر الزام لگارہے ہیں یہ تم لکھ کر رکھ لو اور مجھ سے سائن کروالو اور اگر کہیں سے کیش کرواسکتے ہو تو کیش بھی کروالینا،

میں نے کہا کہ شاہ صاحب آپ کے اکاؤنٹ میں کتنے پیسے ہوں گے تو انہوں نے کہا کہ چند لاکھ ہوں گے، میں نے کہا شاہ صاحب میں تو اس پر یقین نہیں کرتا ، انہوں نے کہا کہ میرے دو بینک اکاؤنٹس ہیں دونوں کے مجھ سے بلینک چیک لے لو اور جتنے بھی پیسے ہیں جاکر نکلوالو، میں نے کہا کہ آپ نے پیسے چھپائے ہوں گے وہ نیب آپ سے نکلوالے گی۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی طورخم پر تقریر اور خورشید شاہ کی گرفتاری سے سب کو پیغام چلا گیا ہے کہ اس وقت انچارج عمران خان ہیں جو کسی کو این آر او دینے کیلئے تیار نہیں ہیں، عمران خان سے فی الحال کوئی این آر او مانگ نہیں رہا ہے،عمران خان جب بھی کہتے ہیں کہ میں این آر او نہیں دوں گا اپوزیشن کا کوئی لیڈر گرفتار ہوجاتا ہے۔

ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف کو جیل سے رہائی کی کوئی جلدی نہیں ہے، وہ ایسی صورتحال میں رہائی نہیں چاہتے جس میں کسی ڈیل کا شائبہ پیدا ہوتا ہو،نواز شریف چاہتے ہیں جس عدالتی نظام نے انہیں سزا دے کر زیادتی کی ہے وہ اس کا ازالہ بھی کرے،

خواجہ حارث نے عدالت میں موقف نواز شریف کے مشورے کے ساتھ اختیار کیا، پرسوں نواز شریف کے ساتھ میٹنگ میں یہ طے پایا تھا، نواز شریف نے اپنے وکلاء سے مشاورت کے بعد یہ موقف اختیار کیا ہے، ہم سیاسی مشورے دے سکتے تھے کہ عدالت میں یا باہر جو

اقدامات اٹھائے جائیں گے اس کے سیاسی مضمرات کیا ہوں گے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان این آر او مانگ کون رہا ہے، وزیراعظم اپنے گریبان میں جھانکیں وہ ڈیل دے بھی سکتے ہیں یا نہیں دے سکتے،

نواز شریف کی خواہش ہے کہ ان پر لگنے والے بے بنیاد الزامات سے وہ قانون اور عدالتی نظام کے ذریعہ بری الذمہ ہوں، عدالت میں دلائل تین مہینے چلیں یا چھ مہینے ہم انتظار کرنے کیلئے تیار ہیں، نواز شریف تمام الزامات سے بری کر کلین چٹ کے ساتھ رہا ہوتے ہیں تو تین چار مہینے کا انتظار کرنے کیلئے تیار ہیں


Add Comment

Click here to post a comment