ad

بلاگ لکھاری

پا جی اِتھے لا دو-تفہیم احمد


ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﺣﺴﺐِ ﻋﺎﺩﺕ ﻣﭩﺮ ﮔﺸﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮰ ﺩﺍﺗﺎ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﮔﯿﭧ ﮐﮯ ﻋﯿﻦ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﮭﺎﭨﯽ ﭼﻮﮎ ﭘﮧ ﺟﺎ ﻧﮑﻼ . وہاں ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﺍﺭﺩﻭ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﮭﭩﮯ ﭘﮧ ﻣﻔﺖ ﺧﻮﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮰ ﻣﺎﻝ ﺭﻭﮈ ﭘﮧ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﮔﺮﺩﯼ ﮐﺎ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﺗﮭﺎ, مال روڈ پر الحمرا اور پھر پاک ٹی ہاؤس میں حلقہ اربابِ ذوق کی ہفتہ وار محفل میں شامل ہونا تھا ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮭﺎﭨﯽ ﭼﻮﮎ ﭘﮧ ﮨﯽ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﯿﺎ .

ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﻨﻈﺮ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺭﮐﺸﮧ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ , ﺭﯾﮍﮬﯽ ﺑﺎﻥ ﺩﺍﺋﺮﮮ ﮐﯿﺼﻮﺭﺕ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺉ ﮈﮔﮉﮔﯽ ﻭﺍﻻ ﺑﻨﺪﺭ ﻧﺎﭺ ﺩﮐﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ . ﻣﯿﮟ ﺣﯿﺮﺍﻧﮕﯽ ﻣیں ﻣﺠﻤﻊ ﮐﻮ ﭼﯿﺮﺗﮯ ﮨﻮﮰ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﺷﺎﻣﺖ ﺁﺉ ﮨﻮﺉ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺷﮑﻞ ﻭ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﮈﺭﯾﺴﻨﮓ ﺳﮯ ﻏﯿﺮ ﻣﻠﮑﯽ ﺳﯿﺎح ﻟﮓ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭽﺎﺭﮮ ﮐﮭﭩﮯ ﭘﻨﺠﺎﺑﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ اور پھنس گۓ .

اس جگہ سے اور بھی پڑھے لکھے گزر رہے تھے لیکن کسی کے پاس اتنا وقت نہ تھا کہ وہ بدبودار پسینے والے میلے کچیلے لوگوں کے بیچ دس منٹ ٹہر سکے لیکن ہم تو یہ ایڈونچر کرتے ہی رہتے ہیں سو مجمع کو چیرتے ہوۓ آگے اس بدنصیب جوڑے کے پاس جا پہنچے. وہ دونوں سائیکلسٹ تھے. فولڈنگ والی سائیکلوں پہ سوار شائد پاکستان کو فرانس سمجھتے ہوۓ ٹور ڈی فرانس کیبجاۓ ٹور دی پاکستان پہ تھے اور بیچاروں نے اپنی انگریزی زبان میں لاہوریوں سے شاہی قلعے کا راستہ پوچھ لیا تھا اور لاہوری جنہوں نے مجھے ایکبار میو ہسپتال سے مال روڈ کا راستہ اسطرح بتایا کہ اگلے چار گھنٹے میں تنگ گلیوں اور خاموش محلوں میں بھٹکتا ہوا آخر کار گورنرہاؤس پہ جا نکلا.

اب گوروں کے اسی انجام سے ڈر کر میں نے ہمت کی اور ٹوٹی پھوٹی انگریجی میں اپنا تعارف کرایا. بات کرنے پہ پتہ چلا کہ وہ گورے انگریز نہیں بلکہ ترکش مسلمان ہیں جو شہباز شریف کی کوششوں سے ترکی سے پاکستان دیکھنے آۓ تھے. اب انکے نام تو ذہن میں نہیں آ رہے. دونوں بالکل نوجوان تھے اور شاہی قلعے لاہور کا راستہ تو پوچھ ہی رہے تھے لیکن سمجھنے والوں کی دانست میں وہ پارکنگ کی جگہ پوچھ رہے تھے اور ہجوم سے آوازیں آ رہی تھیں.

‘پا جی اتھے لا دو’

میں نے تعارف کیبعد خالصتاً میزبانی انداز میں کہا
‘ویلکم ٹو پاکستان’ اسکے بعد انہوں نے تھینک یو کیساتھ کچھ اور الفاظ بھی بولے جو میری سماعت سے تو ٹکراۓ لیکن انہوں نے کان کے پردے سے تھوڑا آگے جانے کی زحمت نہ فرمائ کہ میرا دماغ انہیں سمجھنے کی سعی کرتا. اس لیے میں کچھ سمجھ نہ سکا.

خیر پھر ایک چاند گاڑی میرا مطبل ایک چنگ چی والے کو بلایا. اس سے ڈیل کیا . انہوں نے اپنی بائیسیکلز فولڈ کر کے بیگ میں ڈالا اور میں نے انہیں انکی منزل کیطرف روانہ کر دیا. اب یہ سوچ کر خوش ہوتا ہوں کہ جسطرح مجھے انکے نام یاد نہیں , شاید میرا نام بھی انہیں بھول چکا ہو گا لیکن پاکستان کا ٹوّر انہیں ضرور یاد ہو گا.

شائد میری وجہ سے وہ میرے ملک کا اچھا امیج لیکر گۓ ہونگے. شائد اپنے ملک جا کر کسی کے سامنے ذکر بھی کیا ہو گا کہ ہم مشکل میں تھے اور ایک پاکستانی نے ہماری مدد کی لہزا پاکستانی ایک اچھی قوم ہے. بس یہی سوچ کر میں خوش ہو جاتا ہوں کہ میری وجہ سے میرے ملک سے اچھا پیغام دنیا تک پہنچا.