ad

بلاگ لکھاری

اسرائیلی طریقہ واردات_انس انیس 


کیا مشرق وسطی کی ناجائز صیہونی ریاست  اس حد تک آگے بڑھ  جائےگی کہ  مسلسل ظلم و بربریت؛ تشدد وقوت اور امریکی سامراج کے زیر سایہ ارض مقدس فلسطین کے ایک ایک ٹکڑے کو دن بدن ہڑپ کرتی چلی جائے گی فوج کشی کے ذریعے فلسطین کی بستیوں کی بستیاں اجاڑ کر   غزہ کو ایک بڑی  جیل کی شکل میں بدل ڈالے گی. عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا کر  سرحدوں میں مسلسل اضافہ کر کے سلامتی کونسل کی بیس سے زائد قرادروں کو پاؤں کی نوک پر رکھے گی پھر بھی روشن خیال انسانیت و امن کی روادار ریاست کہلائے گی. 

جمہوریت آئین و قانون کا چیمپئن کہلانے والا اسرائیل شروع سے ہی مسلم ممالک میں جمہوریت کا تختہ الٹنے اور سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشوں میں قائدانہ ادا کر رہا ہے. مسلم ممالک میں آمریت کو پروموٹ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے جسکی واضح مثال غزہ کے انتخابات میں حماس کی واضح برتری کے باوجود بھی انتخابات کو تسلیم نہ کرنا ہے. اسرائیلی شہہ پر مصر میں مرسی اور الجزائر میں اسلامک فرنٹ کا تختہ الٹ دیا گیا. کروشن خیالی؛ امن رواداری کے نام عالم اسلام کی نظروں میں دھول جھونک کر اسرائیل میں بچوں کے کانوں میں روز اؤل سے یہ زہر گھولا جاتا ہے کہ مسلم قوم دہشتگرد وحشی درندہ قوم ہے فلسطینیوں پر جارحیت کرنا تمھارا پیدائشی حق ہے جہاں ارکان اسمبلی اور کابینہ کے لوگ ایک اسرائیلی کو مارنے پر غزہ کی بستیوں کی بستیاں اجاڑنے کی سر عام دھمکیاں دیتے اور ابھارتے ہیں اور پھر  امن  و انسانیت کا چورن بھی اچھی طرح بیچتے ہیں. غزہ میں فلسطینی عوام کا ہر طرح سے ناطقہ بند کر  خوراک وغیرہ ہر چیز کی ترسیل روک دی گئی ہے اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکولوں اور ہسپتالوں کو بمباری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے قبلہ اؤل کا مسلسل گھیراؤ اور بے حرمتی کے ساتھ ساتھ اسکو گرانے کی مذموم کوششیں جاری ہیں. اسرائیل بستیوں کی بستیاں اجاڑ کر وحشت و بربریت؛ ظلم و جبر کی انتہا کرتے ہوئے بھی پرامن روشن خیال؛ اور کہیں سے کسی فلسطینی کا پتھر پڑ جائے یا حماس کی جانب سے ایک راکٹ بھی پھینک دیا جائے تو دہشتگردی؛ دہشتگرد کے نام سے ہر طرف سے انسانیت و مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے. 

نوم چومسکی نے سچ ہی کہا کہ اسرائیل کے پاس دنیا کے جدید ترین زہریلے ہتھیار ہیں وہ ہتھیار جو جدید ترین  جنگی طیاروں اور بحری جہازوں سے فلسطین کے گنجان آباد کیمپوں؛ بازاروں؛ اسکولوں مسجدوں پر گراتا ہے اور فلسطینیوں کے پاس اپنے کے لیے کسی قسم کا کوئی ہتھیار نہیں یہ ایک منظم نسل کشی اور قتل عام ہے. 

یہ اسرائیل کے گھناؤنے چہرے کا ایک رخ ہے

 دوسرا رخ یہ ہے کہ مسلسل مشرق وسطی؛ جنوبی ایشیا میں امریکی شہہ پر مختلف طریقوں سے بالواسطہ یا بلا واسطہ خانہ جنگی اندرونی و بیرونی خلفشار؛ عدم استحکام کے الاؤ میں جھونک رہا ہے خصوصاً  ان اسلامی ممالک سے اسے ذیادہ چڑ ہے جو فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس وغیرہ کو عملا بھرپور سپورٹ کرتے ہیں اور فلسطین کا مقدمہ ہر فورم پر بلاجھجھک پیش کردیتے ہیں

قطر؛ ترکی سوڈان وغیرہ ممالک جو حماس کی عملی سپورٹ کرتے ہیں بارہا ان ممالک کو عالمی پابندیوں میں جکڑنے اور اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کی جا چکی ہیں. کیونکہ اسرائیل کا بنیادی مقصد فلسطینی تحریک مزاحمت الفتح وحماس کو  سیاسی و مالی اور اخلاقی لحاظ سے ہر طرح تباہ و برباد کرنا ہے تاکہ ہر ابھرنے والی مزاحمتی تحریک  خود بخود اپنی موت آپ مر جائے. اسرائیلی بربریت کی بھرپور کوریج کرنے پر قطر کے بی بی سی طرز پر بنے چینل الجزیرہ پر فلسطین میں مکمل پابندی عائد کی جا چکی ہے اور اسکی مکمل بندش کے لیے اسرائیل بارہا ہاتھ پاؤں مار چکا ہے لیکن یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ رہی. سوشل میڈیا کو وہ اپنے حق میں استعمال کرنے میں کامیاب ہو چکاہے اسرائیلی جارحیت پر مسلسل نقد کرنے سے  اکاؤنٹ بلاک ہو جاتا ہے.  مذہبی طبقے میں سے اسرائیل کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے  عوامی اثر و رسوخ کی مالک  قد آور شخصیات کو اٹھایا جا رہا ہے تاکہ وہ اسرائیلی ٹیکنالوجی امن و انسانیت جیسے خوشنما الفاظ کی آڑ میں اسرائیل کو تسلیم کرو کی منظم مہم چلا سکیں اس پروجیکٹ پر عرصہ دراز سے کام جاری ہے لیکن اس کی حقیقی و منظم صورت پاکستان اسرائیل الائنس کی شکل اب ہمارے سامنے آئی ہے. ہمارے مخلص صحافی دوست عمر فاروق صاحب کو اللہ جزائے خیر عطا فرمائے انہوں نے پوری تفصیل کے ساتھ پاکستان اسرائیل الائنس کا سارا کچا چٹھا کھول کر قوم کے سامنے رکھ دیا ہے.

جسکی کچھ ہلکی سی جھلکیاں اختصار کے ساتھ ہم قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں. 

پاکستان اسرائیل الائنس کے بانی پاکستانی نژاد برطانوی شہری نور ڈاہری ہیں جو کہ پچھلے پانچ چھ سال سے لندن پولیس سے وابستہ ہیں.

نور ڈاہری یہودیوں کی تنظیم زائنسٹ فیڈریشن کے بانی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان اسرائیل الائنس کے چئیرمین بھی ہیں. نور ڈاہری کے اسرائیلی انٹیلیجنس چیف اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مشیر مینڈی سفادی سے نہایت گہرے خوشگوار تعلقات ہیں اور اسی مینڈی سفادی کے ذریعے نیتن یاہو نے نور ڈاہری سے رابطہ کر کے انہیں اسرائیل کے حق میں پرائیویٹ سطح پر تنظیم سازی اور منظم مہم چلانے کا حکم دیا. 

اس کے بعد نور 

ڈاہری نے برطانیہ میں قائم یہودی تنظیم زائنسٹ فیڈریشن کے سربراہ پال چرنی کے ساتھ ملکر پاکستان میں پاک اسرائیل الائنس کی بنیاد رکھی. جسکی ساری تفصیل نور ڈاہری نے اپنی ویپ سائٹ پاکستان اسرائیل الائنس میں اپنے ایک انگلش کالم میں بیان کر دی ہے. پاکستان اسرائیل الائنس ویپ سائٹ کے پاکستان میں ایڈیٹر کراچی کے فاران جعفری ہیں.

نور ڈاہری نے پاکستان میں راستہ ہموار کرنے کے لیے مذہبی شخصیات کا سہارا لیا اور کچھ شخصیات کو رام  کرنے میں باقاعدہ کامیاب بھی ہو چکے ہیں . جن میں سے پاکستان کی ایک بڑی موقر مذہبی شخصیت کے صاحبزادے( جو کہ ملائشیا میں مقیم ہیں )کو ساتھ ملا کر انہیں پاکستان اسرائیل الائنس ویپ سائٹ کا کو آرڈینیٹر بنا دیا ہے.  اب دھیرے دھیرے اپنے مذموم مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے کوشاں ہیں 

پاکیزہ مسلم کے نام سے یہ لوگ اسرائیل کو پاک پوتر ثابت کرنے کے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں. 

بات اسرائیل کو تسلیم کرنے نہ کرنے سے بہت آگے نکل چکی ہے ہر باشعور فرد سوچنے اور سمجھنے پر مجبور ہوتا ہے کہ کیا انسانیت امن؛ رواداری کے سارے لیکچر مسلمانوں کے لیے یا فلسطینی عوام کے لیے ہی وقف ہیں یا اسکی  کرن کہیں اور بھی نظر آئے گی؟ 

 ایک فلسطینی نے چھوٹا سا کنکر کیا پھینکا تو  فتنہ و فساد اور دہشت گردی کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں اور وہاں صیہونی ریاست فلسطینیوں کی بستیوں کی بستیاں اجاڑ کر روز بروز فلسطین کے رقبے کو نگل رہا ہے حماس کا بدلہ فلسطینی عوام سے لیکر ان کے گھروں کو مسمار اور زیتون کے باغات کو آگ لگا دی جائے تو ان مہذب دانشوروں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی.

 کیا اسرائیل سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنی سابقہ حدود تک محدود کو تیار ہے؟ کیا وہ اپنی حدود کا تعین کر چکا ہے؟

 کیا وہ مشرق وسطی میں پرامن پالیسی اپنانے کو تیار ہے؟اقوام متحدہ اور دیگی عالمی اداروں نے اسرائیل کو جنگی مجرم قرار دیا ہے کیا اسرائیل اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے؟ کیا  انسانیت اسرائیل کے ہی اردگرد گھومتی ہے یا اس معیار پر برما و شام کے انسان بھی پورا اترتے ہیں؟ 

 جب آپ اسرائیل کی حمایت میں دور کی کوڑی لانے سے  دریغ نہیں کرتے اور دوسری جانب سب واضح و ظاہر ہونے اور بار بار توجہ دلانے کے باوجود آپ ٹس سے مس نہیں ہوتے تو یہیں سے آپکی مخلصانہ کاوشوں کی قلعی خود بخود کھلتی  جاتی ہے.