ad

بلاگ لکھاری

برما! جہاں انسانیت دم توڑ چکی ہے_انس انیس 


anas anees​میانمار (  برما ) 73 18تک برصغیر کا ہی حصہ سمجھا جاتا تھا.  1873میں برطانیہ کی برٹش حکومت نے اسے برصغیر سےالگ کر کے علاحدہ کالونی کا درجہ دے دیا. میانمار کے سات بڑے صوبوں میں سے ایک اہم صوبہ رکھائین( جسے اراکان کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے )میں مقیم سب سے بڑی اورمظوم اقلیت روہنگیا مسلمانوں کی ہے جن پر میانمار کی سیکورٹی فورسز کی طرف سے ظلم وستم وہ قیامتیں ڈھائی گئیں اوہ وہ شرمناک لرزہ خیز داستانیں رقم کی گئیں کہ جنکے سامنے  ہلاکو و چنگیز کی روحیں بھی کانپ اٹھیں اور شرم سے جھک جائیں .

چھتیس ہزار مربع میل پر مشتمل اراکان 817 1 تک ایک آزاد اسلامی ملک تھا. جس پر برما کے راجہ بودو پھیہ نے قبضہ کیا اور اسے میانمار کا حصہ بنا ڈالا. جو کہ اب برما کا  بڑا اور اہم صوبہ گردانا جاتا ہے. اسلامی شناخت اور مسلمانوں کی اکثریت کی بناء پر اس اراکان( راکھین )کے مسلمانوں کو روز اؤل سے ہی جبر و تشدد کا سامنا کرنا پڑا. جن میں سے انکی شادی کرنے پر پابندی خاندانی منصوبہ بندی تعلیم و روزگار اور آزادانہ نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر دی گئیں جسکی انتہائی مذموم کوشش روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کرنا ہے.

اس ضمن میں بنیادی طور پر ہم روہنگیا مسلمانوں کا تعارف کرواتے جائیں .

روہنگیا برما کے علاقے اراکان کی سب سے بڑی مسلم اقلیت اور بنگلہ دیش کے صوبے چٹاگانگ( چاٹگام)میں بسنے والے مسلمانوں کا نام ہے روہنگیا مسلمان دراصل پندرہویں صدی کی اراکانی ریاست میں آنے والے ہزاروں مسلمانوں کی اولادیں ہیں . برٹش راج کے دوران مختلف ضروریات کی تکمیل کے لیے انگریزوں نے موجودہ نسل کے آبا و اجداد کو بنگلہ دیش سے راکھین لایا جس کے بعد یہ لوگ یہی کے ہو کر رہ گئے اور قریباً ڈیڑھ سو برس سے یہیں آباد ہیں. روہنگیا مسلمانوں  کا اولین مسئلہ سیاسی واقتصادی طور پر رہا. جس کی بنیاد پر ان پر مسلسل نت نئی پابندیاں لگا کر نسل کی جاتی رہی پھر آہستہ آہستہ عالمی تھانیداروں کی جانب سے  بدھ مت کے پیروکاروں اور مسلمانوں کے درمیان جنگ کو طول دینے کے لیے اس مسئلے کو مذہبی بنا کر اچھالا گیا.

 

جسے اب برما کے  مذہبی و سیاسی رہنما مذہبی نقطہ نظر سے ہی دیکھتے ہیں. روہنگیا  مسلمان جس جرم کے پاداش میں شروع میں زیر عتاب رہے وہ یہ تھا کہ برصغیر میں آزادی کی تحریک کے دوران روہنگیا مسلمانوں کا جھکاؤ پاکستان کی طرف ہو گیا برما کی ریاست اراکان جہاں روہنگیا مسلمان بستے ہیں یہ ریاست سابقہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ ملحق تھی. جب پاکستان کی تحریک چل رہی تھی تو روہنگیا مسلمانوں نے بھی اپنی علیحدگی پسند تحریک کا آغاز کیا تاکہ رکھائین ریاست کو مشرقی پاکستان کے ساتھ ضم کر دیا جائے اس سلسلے میں روہنگیا مسلمانوں کے ایک وفد نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ خصوصی ملاقات بھی کی تھی اور اراکان  مسلم لیگ کی بنیاد بھی رکھی گئی تھی لیکن روہنگیا مسلمانوں کا پاکستان میں شمولیت کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا جسکی بنیاد پر روہنگیا مسلمان بعد میں برما کی حکومت کے شدید عتاب کا شکار رہے اور ان پر وقفے وقفے کے بعد طرح طرح کے ظلم و ستم کیے جاتے رہے حد یہ کہ جب 1962 میں جنرل نےون نے اقتدار پر قبضہ کیا تو روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سخت ترین آپریشن شروع کیے جسکا نتیجہ 1982 میں برمی قانون شہریت کے نفاذ کی صورت میں نکلا.

 

اس قانون کے تحت روہنگیا مسلمانوں کی برمی شہریت ختم کر دی گئی اور انہیں بنگالی شہری قرار دیا گیا. جسکے نتیجے میں روہنگیا مسلمان نہ پاسپورٹ حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں کسی دوسری سرگرمی کی  اجازت ہے.انکو کیڑے مکوڑوں سے بھی کمتر تر حیثیت دے دی گئی. برمی حکومت انہیں بنگلہ دیش واپسی کا کہتی ہے اور بنگلہ دیش انہیں اپنا شہری تسلیم کرنے سے صاف انکاری ہے .جبکہ چاروں اطراف سے روہنگیا مسلمانوں کو کوئی ملک پناہ دینے کے لیے تیار نہیں. جسکی وجہ سے انکی اکثریت بدھ مت کے پیروکاروں برمی فوج کے ہاتھوں اور جنگلوں سمندروں میں ڈوب کر یونہی  فنا ہوتی چلی جا رہی ہے. اب تو صورتحال یہ ہے کہ یہ مسئلہ سیاسی کے بجائے مذہبی تعصب و تشدد کی شکل اختیار کر چکا ہے بودھ ازم کے مذہبی رہنما کھلے عام مسلمانوں کی نسل کشی اور مسلم خواتین کی اجتماعی آبروریزی کے فضائل سنا رہے ہیں.

 

برما میں بودھ ازم کے ایک بڑے مذہبی رہنما کا نام آشن وراٹھوے ہے یہ شخص سیاسی و مذہبی اعتبار سے حد درجہ اثرورسوخ رکھتا ہے حتی کہ برما کی سیاسی و مذہبی جماعتیں اس آدمی کی ہاں میں ہاں ملانے کو ہی باعث نجات سمجھتی ہیں اس شخص کو جب ایک امریکی میگزین ٹائم نے کور سٹوری کے ساتھ دہشت گردوں کا بھیانک اور خوفناک چہرہ قرار دیا تو برمی حکومت نے اس میگزین پر ہی برما میں پابندی عائد کر دی. اس شخص کھلم کھلا علی الاعلان بدھ مت کے پیروکاروں کو یوں کہہ کر ابھارتا ہے کہ ہماری سرخ چادریں تازہ مسلم خون پی کر ہی چمک سکتی ہیں. ایک تقریر میں یوں زہر اگلتا ہے کہ اگر تم روہنگیا مسلم ہو تو تم کو جلانا تمھارا قیمہ بنانا اور تمھاری عورتوں کے ساتھ آبروریزی کرنا تمہارے دودھ پیتے بچوں کو ذبح کرنا برمی فوج اور بودھ قوم کا حق ہے.

 

اور انتہائی خوفناک بات یہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی حالیہ نسل کشی میں بھارت کے وزیر اعظم گجرات کے قصائی نریندر مودی بھی پیش پیش ہیں. حال یہ ہے کہ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق میانمار کی ریاست رخائن میں حالیہ واقعات میں روہنگیا مسلمانوں کے 2600 سے زائد مکانوں کو جلا دیا گیا  ہزاروں مسلمان گاجر مولی کی طرح کاٹے جا چکے ہیں. انسانیت کے عالمی چیمپئن خاموشی کی چادر تان کر سوئے پڑے ہیں. اقوام متحدہ جو عراق سوڈان اور ملائشیا میں کسی ایک عیسائی کے قتل ہونے سے چیخنے لگتی ہے وہ سوائے دوتین پھس پھسے بیانات دینے کے  کوئی عملی قدم نہیں اٹھا رہی.

 

اور حد تو یہ ہے کہ میانمار میں جس عورت کی حکومت ہے وہ نام نہاد نوبل انعام یافتہ اور انسانی حقوق کا دم بھرنے والی جمہوریت کی محافظ آنگ سانگ سوچی برمی فوج کی جانب سے مسلمانوں کی نسل کشی پر نہ صرف خاموش بلکہ اس جرم میں پیش پیش ہے. مسلم ممالک میں سے سوائے ترکی کے اور کوئی عملی اقدامات نہیں کر رہا. اس تمام سنگین صورتحال کا تدارک یہی ہو سکتا ہے مسلم ممالک برمی حکومت بھرپور پریشر ڈالیں اور روہنگیا مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر انکے تمام مسائل کو حل کرنے کے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں . یونہی ڈھیٹ بنے رہنے پر برمی حکومت کے ساتھ ہر قسم کے سیاسی وسفارتی تعلقات ختم کر دییے جائیں. روہنگیا مسلمانوں کا کیس عالمی اداروں میں بھرپور طریقے سے اجاگر کیا جائے یا جنوبی سوڈان اور ملائشیا کے شہر تیمور کی طرح اراکان کو بھی الگ ریاست بنانے کی عملی کوششیں کی جائیں.