ad

لاہور

فیصلہ کرچکا ہوں پیچھے نہیں ہٹوں گا-نواز شریف


شہباز شریف نے اہم پارٹی رہنمائوں کے ہمراہ کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے تین گھنٹے طویل بیٹھک کی۔ اس دوران مولانافضل الرحمن کی حکومت مخالف تحریک پر بھی مشاورت کی گئی۔ سابق وزیراعظم نے آزادی مارچ کی مکمل حمایت کر دی۔

دنیا نیوزکے مطابق نواز شریف سے شہباز شریف کی کوٹ لکھپت جیل میں دو مراحل میں ہونے والی ملاقات میں مولانا فضل الرحمن سے ہونےوالی مشاورت اور آزادی مارچ سمیت دیگر معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

شریف برادران کے درمیان ایک گھنٹہ ملاقات ہوئی جس کے بعد احسن اقبال، خواجہ آصف اور اعظم نذیر تارڑ بھی شامل ہو گئے۔ اس دوران شریف فیملی کے کیسز کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے اسلام آباد مارچ کی حمایت کرتے ہوئے شہباز شریف کو ہدایت دی اور کہا کہ مولانا فضل الرحمن کا مکمل ساتھ دیا جائے۔

اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سوچ لیں، پھر واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچ سکے گا۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف نے واضح کیا کہ انہوں نے سوچ بھی لیا اورسمجھ بھی لیا ہے۔شہباز شریف نے انہیں بتایا کہ فضل الرحمن نے لاکھوں افراد کو دھرنے میں لانے کا دعویٰ کیا اور کہا ہے اگر حکومت نے کوئی ایکشن لیا تو پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

شہباز شریف نے ملکی صورتحال کے باعث دھرنے کا وقت تبدیل کرنے کی تجویز دی تاہم نواز شریف نے جواب دیا کہ اداروں کو بچانے کےلئے ہر ممکن اقدامات کرنا ہوں گے۔حکومت سے کوئی ڈھیل چاہے اور نہ ہی ان سے کسی قسم کی ڈیل ہوگی ملک اور قوم کی خاطر ہر قر بانی دوں گا سازشی عناصرہر فورم پر بے نقاب ہوں گے۔

دوسری طرف نمائند ہ پاکستان کے مطابق پاکستان کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں نے جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ اور دھرنے میں شرکت کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے مسلم لیگ (ن) کے صدر و اپوزیشن لیڈر میاں شہبا زشریف کی بجائے سیکنڈ لائن قیادت شرکت کرےگی۔اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے صدر نے صوبائی قیادت کو ہداےات جاری کردی ہیں ،

ذرائع کا کہنا ہے کہ ےہ فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کی ہدائت پر کیا گیا ہے آزادی مارچ میں (ن) لیگ کا پانچ رکنی وفد کی قیادت میں مسلم لیگی کارکان شریک ہوں گے۔اس سلسلے میں جے ےو آئی (ف) کے سر براہ مولانا فضل الرحمن کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔

زرائع کے مطابق (ن) لیگ کی قیادت نے ےہ فیصلہ فرینڈلی اپوزیشن کے الزام سے بچنے کے لئے کیا گیا ہے۔اس سلسلے میں (ن) لیگ کے کارکنان ہر ڈوثیرن سے جے یو آئی کے آذادی مارچ میں شریک ہوں گے

جس کے ساتھ ساتھ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ آذادی مارچ اور دھرنے کے اخراجات کےلئے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا جائے گا کہ اگر انہیں افرادی قوت کے ساتھ ساتھ چندہ کی ضرورت ہو گی تو (ن) لیگ وہ بھی ادا کرے گی۔

دوسری جانب ارشدوحید چوہدری نے ڈیل کے حوالے سے لکھا ہے کہ

اب اگر اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں کیا ڈیل کی ضرورت نواز شریف کو ہے؟ تو بھی یہ گتھی آسانی سے سلجھ جاتی ہے۔

وزارت عظمیٰ سے فراغت سے لے کر کلثوم نواز کی رحلت، لندن سے بیٹی سمیت واپس آکر ایک مقدمے میں جیل جانے اور پھر اس میں سزا معطلی کے بعد دوسرے مقدمے میں دوبارہ قید ہونے اور اپنی آنکھوں کے سامنے بیٹی کی دوبارہ گرفتاری کو دیکھنے تک کون سی مشکل ہے جو نواز شریف نہیں جھیل چکا۔

وہ اب کس رعایت کیلئے ڈیل چاہے گا اور پھر اپنی عزت نفس کی پامالی کو سب سے بڑا دکھ سمجھنے والا نواز شریف کیا اس مرحلے پہ کسی ڈیل کے تحت اپنی اور اپنی بیٹی کی سیاست کو ہمیشہ کیلئے دفن کرنے پہ تیار ہو سکتا ہے۔

جواب یقیناً بہت آسان ہے، مختلف ذرائع سے حاصل معلومات کی بنیاد پہ مبینہ ڈیل کی اصل حقیقت سے بھی قارئین کو آگاہ کردوں کہ جب نواز شریف اور مریم نواز ایون فیلڈ ریفرنس میں پہلی بار جیل گئے تھے تو تب شریف خاندان کو پیشکش کی گئی تھی کہ انہیں علاج کی غرض سے بیرون ملک بھیج دیا جائے گا اور پھر وہ موجودہ حکومت کے دور اقتدار کے خاتمے تک وہیں قیام کریں لیکن نواز شریف نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔

اب گزشتہ چند ماہ سے افواہیں پھیل رہی ہیں کہ ایک بار پھر ڈیل کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں اور نواز شریف کو پیغامات آ رہے ہیں، پیشکش اب بھی وہی ہے کہ نواز شریف اپنی بیٹی کے ہمراہ پاکستان چھوڑ جائیں اور حالات سازگار ہونے کے بعد انہیں واپس بلا لیا جائے گا لیکن اپنے بیانیے پہ قائم نواز شریف کا جواب آج بھی وہی ہے۔

جہاں تک (ن)لیگ کے رہنمائوں کی ڈیل کی حمایت کی بات ہے تو اس میں صرف اس حد تک صداقت ہے کہ شہباز شریف سمیت چند سینئر پارٹی رہنما مزاحمت کے بجائے مفاہمت کے قائل ہیں اور وہ تحریک انصاف کی حکومت کو احتجاج کے بجائے اپنے بوجھ سے خود گرنے دینے کی پالیسی کے قائل ہیں۔

یہ پارٹی رہنما تو احتساب عدالت پیشی کے وقت بھی نہیں پہنچتے کہ مبادا کسی مقدمے میں ان کا نام نہ آ جائے، افواہیں ہیں کہ ایسے پارٹی رہنمائوں سے نواز شریف اور مریم نواز سخت ناراض ہیں جس کا اظہار انہوں نے کیپٹن صفدر کی طرف سے مولانا فضل الرحمٰن کو اکتوبر دھرنے کی حمایت کا پیغام دے کر کر دیا ہے۔

جہاں تک مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے سے اقتدار کے حلقوں میں پائی جانے والی تشویش کا تعلق ہے تو افواہ ہے کہ انہیں رام کرنے کی تمام کوششوں میں ناکامی کے بعد اب ان کے بڑوں کی مدد طلب کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کے لئے باہر سے ایک وفد رواں ماہ ہی پاکستان پہنچے گا۔

اگر مولانا فضل الرحمٰن نے اس چال سے مات کھانے سے خود کو بچا لیا تو پھرڈیل کی ضرورت نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن کو نہیں بلکہ کسی اور کو ہوگی