ad

کالم

سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی ‘آئین کیا کہتا ہے؟


پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ارکان‘ حکومت سے رابطوں اور سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کی صورت میں آئینی کارروائی کی زد میں آسکتے ہیں۔

جماعتی نظم وضبط کی خلاف ورزی کا بھی نوٹس جا سکتا ہے‘ اپنی نشستوں سے محروم ہوسکتے ہیںاورانہیں نااہل بھی قرار دلوایا جا سکتا ہے۔

اٹھارہویں ترمیم کے تحت قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے پارٹی لیڈر کے اختیارات وسیع کرنے کے لیے یہ آئینی تحفظ دیا گیا تھا‘

جس کے تحت پارلیمانی لیڈر آئین کے تحت متعلقہ ارکان کے خلاف سپیکر کے ذریعے ریفرنسز ارسال کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

کوئی بھی رکن اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوئے بغیر کسی دوسری جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا۔

اس آئینی شرط کا ماضی میں خود تحریک انصاف کو فائدہ پہنچ چکا ۔

یہی وجہ ہے کہ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک سے ناراض ہونے کے باوجودارکان اسمبلی ‘ان کے خلاف بغاوت نہیں کر سکے۔

اب‘ اگر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ارکان اپنی پارٹی پرعدم اعتماد کا اظہار کرکے وزیراعظم عمران خان سے ملتے ہیں تو یہ بھی فلورکراسنگ کی زد میں آجائیں گے۔

کچھ ارکان اسمبلی ‘وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی سربراہی میں ملاقاتیں کر رہے ہیں اور حکومتی مشیران اور ترجمان میڈیا میں فخریہ انداز میں(ن) لیگ میں نقب لگانے کا اعلانیہ اظہار کر رہے ہیں ۔

ان کے ہی بیانات ریکارڈ کا حصہ بنا کر ریفرنس سے منسلک کئے جاسکتے ہیں۔

ان کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان فلورکراسنگ کرانے اور سازش کرنے کی کارروائی کا آئینی طور پر مجاز ہے ۔

الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا ۔

اصولی طور پر مسلم لیگ کے ناراض ارکانِ اسمبلی سے وزیراعظم عمران خان کو ملاقات نہیں کرنی چاہیے تھی اور ان کو جہانگیر ترین اور نعیم الحق کے سپرد کر دینا چاہیے تھا۔

امیر قطر شیخ تمیم بن حمادالثانی کی آمد اور قطر کی جانب سے تین ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کاایک خاص پس منظر بھی ہے۔

یہ تاثر بھی ہے کہ قطر کے امیر کی پاکستان آمد اور خطیر رقم کی فراہمی کا مطلب یہ ہے کہ نواز شریف کے بیل آؤٹ کے حوالے سے کوئی حکمت عملی زیر غور ہے ۔

اس حوالے سے طویل عرصے سے میاں نواز شریف کا خاموشی کی حد تک دھیما پن ‘اسی سلسلے کی کڑی ہے ‘

جبکہ مریم نواز کے جارحانہ انداز کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے مستقبل میں بھی پاکستان میں سیاست کرنی ہے

‘اس لیے انہوں نے جارحانہ انداز سوچ سمجھ کر اور آئندہ کی سیاست کو مد نظر رکھتے ہوئے اختیار کیا ہے‘

تاہم میرے نقطۂ نظر کے مطابق؛ مریم نواز کا پاکستان میں کوئی مستقبل اس لیے نظر نہیں آرہا کہ ان کے اردگرد کے ٹولے نے ان کی سیاست کے تابوت میں کیل ٹھونک دی ہے۔

ان کے سیاسی بیانیے کا مقصد پاکستان کے عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں ‘بلکہ اپنی اربوں ڈالر کی جائیداد کاتحفظ ہے۔

عرب رہنماؤں کے ساتھ شریف خاندان کے دیرینہ تعلقات ہیں۔

نواز شریف نے 28مئی 1998 ء کو ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو امت مسلمہ کا سب سے طاقتور ملک بنا دیا تو

مشرق وسطیٰ کی نظر میںوہ نمایاں ہوئے؛چنانچہ1999ء میں جب ان کا تختہ الٹا گیا اور وہ کئی مقدمات میں پھنس گئے تو امت مسلمہ کے اکابرین ‘نواز شریف کی مدد کو آگے بڑھے ۔

اس وقت لبنان کے وزیراعظم سعد حریری اور دوسرے عرب رہنماؤںنے نوازشریف کو جدہ بھجوا نے کی کوششیں کیں اور جنرل پرویز مشرف بھی عرب رہنماؤں کی بات ٹال نہ سکے۔

اس طرح کی کوشش سے ذو الفقار علی بھٹو محروم رہے ۔

بدقسمتی کی انتہا دیکھیں کہ صدر فضل الٰہی ‘ عبد الحفیظ پیرزادہ‘ مولانا کوثر نیازی اور غلام مصطفی جتوئی ان کے خلاف صف آرا ہو گئے تھے

اور انہوں نے بھی اپنے طرز ِعمل سے یہی تاثرات دیے کہ ان کی رہائی کے بعد جو سیاسی نقشہ بنے گا‘ اس میں پاکستان کی فیڈریشن نظر نہیں آرہی تھی۔

بہرکیف ‘نواز شریف کو اب بھی احساس ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں امیر قطر کی پس ِپردہ سفارتی کوششوں اور

شاہ فہد ‘ کراؤن پرنس عبداللہ اوربل کلنٹن کی خفیہ مفاہمت اوراُس وقت کے صدر مملکت محمد رفیق تارڑ کے مضبوط ارادے نے ان کی مشکلات ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

دوسری جانب یہ سننے میں آ رہا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی رہائی کے لیے میر نادر مگسی‘ خلیجی ممالک کی اہم شخصیات سے رابطے میں ہیں اور ایسی مفاہمت کی تیاری ہورہی ہے

جس کے تحت آصف علی زرداری سیاست سے لاتعلق ہوجائیں گے اور ایبڈو کی طرز پر ان کی سیاست پر پابندی عائد کر دی جائے گی

‘ جسے کسی بھی عدالتی فورم پر چیلنج نہیں کیا جاسکے گا اور وہ بقیہ عمر وہ اپنی زرعی جاگیر پر کا شتکاری کریں گے‘

اسی پس منظر میں آصف علی زرداری کی جانب سے اپنی ضمانتو ں کی تینوں درخواستیں واپس لینے کا اقدام ان کی پارٹی اور دیگر حلقوں کو حیرت میں ڈالنے والا ہے۔

نواز شریف کی اپیل 15 ستمبر کے بعد سماعت کے لیے سامنے آئے گی۔ نواز شریف نے جلد بازی سے کام لیتے ہوئے اپنے مقدمات کو غلط سمت کی طرف موڑ دیا ہے

‘اس کے پیچھے بھی مختلف وجوہات ہیں ‘تاہم دوست ممالک کی درپردہ کوششوں سے نواز شریف اور آصف علی زرداری کے مستقبل کا فیصلہ ممکنہ طور پر ستمبر اور اکتوبر کے درمیان ہو جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان کو بھی اپنے معاملات پر غور کرنا چاہیے

‘ کیونکہ ان دو نا پسندیدہ شخصیات کے بارے میں اہم فیصلے آنے کے بعد عمران خان صاحب کے خلاف الیکشن کمیشن کی فارن فنڈنگ کی انکوائری ‘جس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے

‘وہ بادی النظر میں عمران خان کی مستقبل کی سیاست کے لیے بلیک ہول ثابت ہوسکتا ہے‘مگر ان کے قانونی‘ آئینی ماہرین اس کے صحیح حقائق کا ادراک نہیں کر رہے ۔

تحریک انصاف میں اندرونی طور پر شخصیات کی تکرار شروع ہے اور ایک اہم شخصیت اونچی اڑان کے چکر میں اپنے اردگرد‘ تحریک انصاف کے متعدد ارکان قومی اسمبلی کو اکٹھا کرنے میں مصروف عمل ہے

اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کو پنجاب کا رہنما اور قومی ہیرو بنانے کے مشن پر غیر ملکی سکھ برادری سے بھاری رقوم حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئیر اعجاز شاہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خفیہ ایجنسی سے تحقیقات کروائیں تو ان کو حیرت انگیز انکشافات حاصل ہو جائیں گے۔

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی جانب سے منعقد کیے گئے سیمینار کا اہم ترین حاصل یہ ہے کہ مشکل معاشی فیصلوں پر عملدرآمد کی خاطر قومی زندگی کے تمام شعبوں کے وابستگان کو اپنا کردار پوری ذمہ داری سے ادا کرنا ہوگا۔

اس ضمن میں یہ امر قابل غور ہے کہ اس کے لیے جس قومی یکجہتی اور حمایت کی ضرورت ہے

‘ وہ ملک میں موجود نہیں اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے جو معاشی ڈاکٹرائن نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں پیش کیا‘ اس کو قومی معیشت کے نقطہ آغاز کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے‘

کیونکہ پاکستانی معیشت انتہائی سست روی اختیار کر چکی اور ملک کے اندر سیاسی محاذ آرائی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔

افسوس ہے کہ وزیرا عظم عمران خان کو خود ان کے مشیران ہی ناکام بنا رہے ہیں ۔

اس وقت تحریک انصاف کی حکومت کے متعدد وزراء ماضی میں پیپلز پارٹی حکومت میں شامل تھے اور تقریباً آدھی درجن وزر ا کا تعلق بھی دیگر سیاسی جماعتوں سے رہا ہے

اور وہ ماضی میں کئی حکومتوں کا حصہ رہے ہیں ۔سوچنا چاہیے کہ جو لوگ ماضی میںملکی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا نہ کر سکے تو اب کیسے کریں گے؟

کنور دلشاد

بشکریہ دنیا نیوز


Add Comment

Click here to post a comment