ad

کالم

بال خان صاحب کے کورٹ میں


سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مصالحت کنند ہ کا کردار ادا کر رہے ہیں،

ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں حکومت بھی میثاق معیشت پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف اپنی بجٹ تقریر اور اس سے پہلے بھی میثاق معیشت پر بات چیت کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

آصف علی زرداری جو پروڈکشن آرڈرز کے ذریعے بدھ کو قومی اسمبلی میں آئے تھے، غیر معمولی مصالحانہ موڈ میں تھے،

انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی بھی میثاق معیشت پر ایسے اتفاق رائے کو تیار ہے جس کے بعد حکومتیں بدلنے سے بھی معاشی پالیسیوں پر کوئی منفی اثر نہ پڑ ے۔

دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے چیف وہپ عامر ڈوگر کے ذریعے پیشکش کی ہے کہ اگر وزیر اعظم شرف قبولیت بخشتے ہیں تو ہم بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں۔

ایسے لگتا ہے کہ میثاق معیشت ہو یا نہ ہو لیکن اس گھڑمس میں بجٹ ضرور پاس ہو جائے گا۔

ویسے بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان 2006 ء میں ہونے والے میثاق جمہوریت کو عمران خان سمیت تحریک انصاف والے ’میثاق لوٹ مار‘ قرار دیتے رہے ہیں

کیونکہ ان کے مطابق اس میثاق مک مکاکے ذریعے دونوں پارٹیوں نے باریاں لیں اور قوم کی دولت لوٹ کر لے گئے۔

اب مریم نواز نے اپنے چچا جان کی تضحیک کرتے ہوئے اسے ’مذاق معیشت‘ کہہ کر رد کر دیا ہے بقول ان کے یہ اُن کی ذاتی رائے ہے جبکہ میری اپنی رائے ہے۔

ظاہر ہے میاں شہباز شریف سیاسی جانشین کے سامنے بے بس ہیں وگرنہ اپنی نائب صدر کو بطور صدر ڈسپلن کی خلاف ورزی کر نے پر شوکاز نوٹس دینا چاہیے۔

گھر کا بھید ی لنکا ڈھا ئے، وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے نیب سے متعلق یہ بیان دے کرکہ ”ہم احتساب کر رہے ہیں نیب نہیں“ چیئرمین نیب کو ناراض کر لیا ہے۔

نیب نے اس پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فواد چودھری کے بیان کو حقائق کے منافی قرار دیا ہے اور کہا ہے کرپشن کے حوالے سے حکومت نے آج تک کوئی ریفرنس نیب کو نہیں بھیجا۔

حکومت کا استدلال اس کے بالکل برعکس ہے کہ ہمارا احتساب سے کوئی تعلق نہیں۔ میثاق معیشت اصولی طور پر ایک انتہائی درست تجویز ہے،

اس قسم کے میثاق پر اتفاق رائے پیدا کرنا اس وقت مشکل تھا جب سیاسی جماعتوں کے اقتصادیات کے بارے میں نظریات مختلف ہوتے تھے۔

پیپلز پارٹی ایک زمانے میں اسلامی سوشلزم کی علمبردار تھی اور اس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے 1972ء میں وزیراعظم بنتے ہی صنعتیں قومیالی تھیں

لیکن اب تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اورایم کیو ایم حتیٰ کہ مذہبی جماعتوں سمیت تمام سیاسی جماعتیں سرمایہ دارانہ نظام کی داعی ہیں۔

سب متفق ہیں کہ نجی شعبے کو مستحکم ہونا چاہیے، بجٹ خسارہ کم کرنا چاہیے، صنعتی، تجارتی اور زرعی شعبے کے کام میں حکومت کو مداخلت کر نے کے بجائے بلکہ ان کے لیے سہولت کار بننا چاہیے لیکن اس میں دیگر کئی مشکلات ہیں۔

ایک تو حکومتی جماعت اور اپوزیشن میں اعتماد کا شدید فقدان ہے۔

حکمران جماعت تمام بیماریوں کی جڑ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی کرپشن اور بدانتظامی کو قرار دیتی ہے

جبکہ اپوزیشن عمران خان کو نالائق وزیراعظم کہتے نہیں تھکتی اور ریکارڈ کم وقت میں معیشت کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔

حکومت کی طرف سے اقتصادی محاذ پر بھی اپوزیشن کے خلاف الزام تراشی اوربقول اپوزیشن انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

حال ہی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار میں لیے گئے قرضوں کی چھان بین کے لیے خان صاحب کی ہد ایت پر بارہ رکنی کمیشن قائم کر دیا گیا ہے

جس کے سربراہ ڈپٹی چیئرمین نیب، پولیس آ فیسرحسین اصغر ہیں۔

اس میں ملٹری انٹیلی جنس، آئی ایس آئی، آئی بی، ایف آئی اے، نیب، ایس ای سی پی، سٹیٹ بینک، وزارت خزانہ کے سپیشل سیکرٹری اور اے جی پی آر کے نمائندے شامل ہوں گے۔

سپیشل سیکرٹری فنانس ڈویژن ممبر اور سیکرٹری کے فرائض انجام دیں گے۔

کمیشن 6 ما ہ میں حکومت کو رپورٹ دے گا، ہائی پاور انکوائر ی کمیشن کوسرکاری اور نجی شعبہ سے کسی بھی شخصیت سے بطور ممبر یا مشیر معاونت لینے کا اختیادے دیا گیا ہے۔

گویا یہ کمیشن اقتصادی معاملات نہیں بلکہ فوجد اری مقدمات بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے اسی لیے اپوزیشن کی نظر میں اس کمیشن کا واحد مقصد ان کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے۔

اسی طرح وزیر اعظم کی سربراہی میں ایک اورادارہ، قومی ترقیاتی کو نسل تشکیل دیاگیا ہے حالانکہ نیشنل سکیورٹی کونسل اوراقتصادی رابطہ کمیٹی جیسے ادارے پہلے ہی موجود ہیں اس میں چیف آف آرمی سٹاف کو بھی شامل کیا گیا ہے

جس پر بعض ناقدین کا ماتھا ٹھنکا ہے کہ قومی سکیورٹی پالیسی، خارجہ پالیسی اور دیگر معاملات پر فوج اور سویلین لیڈر شپ نیشنل سکیورٹی کونسل میں پہلے ہی اکٹھے بیٹھتے ہیں۔

جب اسحق ڈار وزیر خزانہ تھے تو اسی کونسل کی میٹنگ جس میں آرمی چیف بھی شریک تھے، اقتصادی معاملات پر بات چیت ہوئی تواس زمانے میں پاک فوج کو غالبا ًٹینک خریدنے کے لیے رقم کی ضرورت تھی

لیکن اسحق ڈار نے کورا سا جواب دیا کہ ’پاناما گیٹ‘ کے بعد جو غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے اقتصادی صو رتحال خراب ہو چکی ہے اور خزانہ خالی ہے۔

اس پر آرمی چیف نے برجستہ جواب دیا کہ اگر ایسا ہی ہے تو اٹلی جہاں سینکڑوں سیاسی حکومتیں تبدیل ہوئی ہیں اس کا حال تو بہت پتلا ہونا چاہیے تھا۔

یقیناً فوجی قیادت سمیت سب کی فطری خواہش ہے کہ حکومتیں تو آتی جاتی رہتی ہیں لیکن اقتصادیا ت کو آگے لے جانے کے لیے پالیسیوں پر کوئی اختلاف رائے نہیں ہونا چاہیے۔

پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے میثاق معیشت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف میثاق معیشت کی باتیں ہو رہی ہیں دوسری طرف یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ ہم این آ ر او مانگ رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے خو اجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا کہ ہم صلح کی بات کریں تو کہا جاتاہے این آر او مانگ رہے ہیں۔

آصف علی زرداری نے بھی کہا ہے کہ اگر این آر او لینا ہوتا تو تین سال پہلے لے چکا ہوتا۔

تاہم شیخ رشید اور تحریک انصاف کے بعض ترجمان دن رات یہ الزام عائد کرتے رہتے ہیں کہ اپوزیشن این آر او مانگ رہی ہے حتیٰ کہ زرداری صاحب کی پیشکش کو بھی ملفوف این آر او مانگنے سے تعبیر کیا گیا۔

ویسے شیخ رشید حیدر آباد ریلوے حادثہ میں تین افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو نے کا بڑی ڈھٹا ئی کے ساتھ ساراملبہ جاں بحق ہونے والے ڈرائیور پر ڈال کر بڑی خوبصورتی سے سرخرو ہو گئے ہیں۔

دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کے مصداق دوسروں کا احتساب کرنے کی رٹ لگانے کے باوجود ان اصولوں کو خو د پر منطبق نہیں کرنا چاہتے۔

اپوزیشن کا یہ بیانیہ کہ ہم تحریک چلائیں گے اور بجٹ پا س نہیں ہونے دیں گے کچھ کمزور پڑتا جا رہا ہے۔

آصف زرداری نے بر خوردار بلاول بھٹو کے اپنی والدہ بے نظیر بھٹو کی سالگر ہ پر نواب شا ہ میں تقریب سے خطاب کو ان کی زند گی کی بہترین تقریر قرار دیا۔

اس تقریر میں بلاول نے عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اتنا ہی ظلم کرو جتنا برداشت کر سکتے ہو، ایک ایک آنسو کا حساب لیں گے۔

انھوں نے کہا تم 70 سال کے بوڑھے ہو میں 30 سال کا جوان ہوں۔ دوسر ی طرف محترمہ مریم نواز بھی آ گ برسا رہی ہیں لیکن پارلیمنٹ میں بزرگوں کا بیانیہ یکسر مختلف ہے۔

وہاں تو مصالحت کی بات ہو رہی ہے۔ اس تناظر میں مولانا فضل الرحمن کی بدھ کو ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کوئی ایسا متفقہ لائحہ عمل طے کر سکے گی جو لوگوں کو مہنگائی، بے روزگاری کے خلاف سڑکوں پر لے آئے،

مشکل نظر آتا ہے۔ گویا کہ حکومتی جماعت اور اپوزیشن کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اگر مصالحت کی سیا ست کرنی ہے تو اعتماد سازی کا ماحول پیداکیا جا ئے۔

اس ضمن میں بال خان صاحب کے کورٹ میں ہے لیکن وہ فی الحال نچلے بیٹھتے نظر نہیں آ رہے۔ اس غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ملکی معیشت کے لیے مزید نقصان کا باعث بنے گا۔


Add Comment

Click here to post a comment