ad

Breaking News

نواز شریف کا معاملہ طے کرنے کیلئے 48 گھنٹے کی مہلت ہے


سوشل میڈیا بلاگر اظہر سید نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے پاس نواز شریف کے معاملہ پر عوامی جمہوریہ چین کے تحفظات دور کرنے کیلئے 48 گھنٹےباقی ہیں ۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں چینی حمایت کے حصول کیلئے اسٹیبلشمنٹ کو اقدامات کرنا ہیں ۔پیر کے روز بنکاک میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے پاکستان کے وعدہ کردہ اقدامات پر غور کیلئے تین روزہ اجلاس ہو رہا ہے ۔

پاکستانی وفد اجلاس میں پاکستان کا کیس تندہی کے ساتھ پیش کر رہا ہے ۔ایشیا پیسیفک گروپ کا یہ اخری اجلاس ہے جو اپنی سفارشات حتمی فیصلہ کیلئے پیش کرے گا ۔

پاکستان کو 36 رکنی گروپ میں کم از کم تین ممالک کی حمایت درکار ہے ۔گزشتہ اجلاس میں پاکستان چین ،ترکی اور ملایشیا کی حمایت سے بلیک لسٹ ہونےکی سفارش سے بچ نکلا تھا اور اسے ستمبر تک کی مہلت مل گئی تھی ۔

زرائع کا کہنا ہے موجودہ اجلاس میں پاکستان کو چینی سفارشات کی اشد ضرورت ہے اور چینی حمایت نواز شریف کے معاملہ حل کرنے سے مشروط ہے ۔

زرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کے بھی امکانات ہیں عوامی جمہوریہ چین سے مہلت حاصل کر لی جائے اور ٹھوس وعدے بھی کئے جائیں ۔چینیوں نے اگر وعدوں پر اعتبار کر لیا تو پاکستان کو بلیک لسٹ کی سفارشات سے بچنے کیلئے چین کی حمایت مل جائے گی تاہم آئندہ ماہ یعنی ایف اے ٹی ایف کے اکتوبر کے حتمی اجلاس سے قبل پاکستان کو نواز شریف کے معاملہ پر چینیوں کو مطمین کرنا ہی ہو گا ۔

زرائع کا کہنا ہے طالبان امریکہ امن مذاکرات ملتوی ہونے سے امریکیوں کی پاکستان کی ضرورت فی الحال ختم ہو گئی ہے اور امریکی حمایت کیلئے طالبان کے حوالہ سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے پاس فروخت کیلئے کوئی مال موجود نہیں ۔بھارتی پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے کیلئے تمام حربے استمال کر رہے ہیں اور پاکستان کی کمزور معاشی صورتحال مزید مشکلات اور پیچیدگیوں کا باعث بن رہی ہے ۔

پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ حکومت کی تمام محاذوں پر ناقص کارکردگی کی وجہ سے بہت مشکلات کا شکار ہے ۔دنیا کے طاقتور ممالک موجودہ حکومت کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر دورے کی خواہشات کو بھی پزیرائی نہیں بخش رہے جبکہ بھارت کے اعلی سطحی وفود دنیا بھر کے دورے کر کے اپنا موقف بیان کر رہے ہیں اور پاکستانی حکمران محض سوشل میڈیا کے زریعے اپنے عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں ۔

اسٹیبلشمنٹ کو ملک کے اندر بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت کی اشد ضرورت ہے اور امریکی بھارتی مخالف لابی کے چیلنج سے نپٹنے کیلئے چینی حمایت درکار ہے ۔

زرائع کا کہنا ہے چینی حمایت سیاسی استحکام سے مشروط ہے اور یہ استحکام میاں نواز شریف کے معاملہ کے حل سے مشروط ہے ۔میاں نواز شریف کےمعاملہ کو نپٹانے کیلئے 48 گھنٹے یا اگر چینی مہلت دینے پر تیار ہو گئے تو مزید 30 یا 35 دن ہونگے تاکہ پاکستان بلیک لسٹ ہونے سے بچ سکے ۔

زرائع کا کہنا ہے اگر اسٹیبلشمنٹ نے ملک کو درپیش چیلنجز سے نپٹنے کیلئے آگے بڑھ کر جرات مندانہ فیصلے نہ کئے اور پاکستان بلیک لسٹ ہو گیا تو معاملات بہت خطرناک صورت اختیار کر جائیں گے ۔

انتہا پسند مذہبی تنظیموں کے حوالہ سے پاکستان کا بازو مروڑا جا سکے گا اور معاشی بحران خوفناک شکل اختیار کر جائے گا ۔جس کا نتیجہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو انتہا پسندوں سے بچانے تک بھی آ سکتا یے۔

معاملات اس قدر مخدوش ہیں اقتصادی اہداف حاصل نہ ہونے پر آئی ایم ایف کا بیل اوٹ پیکیج بھی معطل ہو سکتا ہے ۔

ملکی سلامتی کے معاملات بعض عہدیداروں پر ان پہنچے ہیں کہ وہ ضد اور انا کے خول توڑ کر میاں نواز شریف کا معاملہ حل کرتے ہیں اور غلطیوں کا کھلے عام اعتراف کرتے ہیں یا پھر ملک کے دلدل میں ڈوبنے کا تماشا خاموشی کے ساتھ دیکھتے ہیں اور اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کرتے ۔

دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں ادارے ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کو پیغام پہنچا دیا ہے کہ وہ ملک سے باہر نہیں جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق نواز شریف کوٹ لکھپت جیل کی سلاخوں کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اپنی زندگی کی سب سے مشکل جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کو بھی 70 سالہ تسلط میں اس وقت سب سے پیچیدہ چیلنج کا سامنا ہے۔

نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے ڈیل سے متعلق ہر طرح کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف سے رابطہ کیا ہے اوراس مرتبہ ان کے چھوٹے بھائی اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو بھی یہی کہا گیا کہ وہ اپنا اینٹی اسٹیبلشمنٹ مؤقف تبدیل کریں اور کچھ ماہ کے لیے بیرون ملک چلے جائیں۔

خبررساں ادارے صباح کے مطابق سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ملک چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی ڈیل نہیں ہو گی، میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو آزادی مارچ ملتوی کرنے کا مشورہ بھی نہیں دوں گا۔ اندرون خانہ پکنے والی کھچڑی کی تصدیق شیخ رشید بھی کرتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزراء آئے روز دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کوئی این آر او نہیں دیں گے مگر دیگر یو ٹرنز کی طرح حکومت ایک اور پینترا بدلنے والی ہے۔

انتہائی معتبر ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ 3 روز میں نوازشریف سے ملک کی اہم شخصیات کا دو بار رابطہ ہوا۔ نوازشریف کو پیغام دیا گیا کہ جیل سے رہائی کے بعد آپ کچھ عرصے کے لیے لندن چلے جائیں اور ہمیں کچھ وقت مل جائے۔

ملک انتہائی نازک صورتحال سے گزر رہا ہے۔ آپ کی تھوڑی سی مدد کے بعد ہم حالات نارمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملاقات میں سب سے زیادہ کوشش مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کو ملتوی کرانے پر کی گئی۔

نوازشریف نے واضح طور پر کہا کہ میں نے جو کھونا تھا، کھو دیا۔ اب میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں ملک سے چلا جائوں تو مجھ سے بڑا منافق کوئی نہیں ہو گا۔ میں مولانا فضل الرحمن کو آزادی مارچ ملتوی کرنے کا مشورہ نہیں دوں گا۔

ملاقات کرنے والوں نے نوازشریف کے سامنے بہت سارے راستے اور تجاویز رکھیں مگر انہوں نے واضح جواب دیا کہ ایسے وقت میں ملک کی مجموعی صورتحال میرے علاج سے زیادہ ضروری ہے، چنانچہ میں کسی طور ملک نہیں چھوڑ سکتا۔

مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت کسی کو این آر او نہ دینے کا دعویٰ کرتی رہی مگر حالیہ دنوں میں ایک یو ٹرن لیتے ہوئے فرٹیلائزر، سیمنٹ اور دیگر صنعتوں کے 228 ارب روپے کی واجب الادا رقم صدارتی آرڈیننس کے ذریعے معاف کرنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نواز شریف اور آصف علی زرداری کے معاملے پر بھی جلد یوٹرن لینے والی ہے۔

اس حوالے سے گزشتہ چند ماہ میں نواز شریف سے ’’بعض اہم لوگ ‘‘ مسلسل رابطے اور ملاقات کر رہے ہیں اور کئی تجاویز ان کے سامنے رکھی گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف اپنی ذات کی حد تک کچھ عرصے کے لیے بیرون ملک جانے پر رضامند ہو گئے تھے مگر وہ اپنی بیٹی مریم نواز کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے کسی کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔

نواز شریف کے اس انکار کے بعد ان کو دبائو میں لانے کے لیے مریم نواز کو ایک بار پھر گرفتار کیا گیا اور گرفتاری کے بعد نواز شریف سے دوبارہ رابطے کیے گئے۔ گزشتہ 3 روز میں کئی اہم شخصیات کوٹ لکھپت جیل میں ان سے رابطہ کر چکی ہیں۔

دبائو کے علاوہ میاں نوازشریف کے قریبی عزیزوں، دوستوں اور مختلف کاروباری شراکت داروں کو بھی اس سارے عمل میں شامل کیا گیا ہے مگر نواز شریف کسی بات پر تیار نہیں ہو رہے ہیں۔

حکومت ایک طرف این آر او نہ دینے کی باتیں کر رہی ہے مگر ’’اہم لوگوں ‘‘ کے ذریعے پوری کوشش کر رہی ہے کہ فیس سیونگ کے لیے نواز شریف کچھ لے دے کر بیرون ملک چلے جائیں۔

ان ساری باتوں کی تصدیق وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے ذرائع ابلاغ سے مختلف انٹرویوز سے بھی ہوتی ہے جن میں وہ کہہ رہے ہیں کہ آصف علی زرداری سمجھدار آدمی ہیں، وہ اپنے دوستوں کے ذریعے لے دے کر درمیانی راستہ نکال رہے ہیں جبکہ نواز شریف مر جائے گا، مگر پیسے نہیں دے گا۔

شیخ رشید کا یہ جملہ ایک طرف حکومتی بے بسی کی نشاندہی کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نواز شریف سے ڈیل کر کے اپنے لیے ممکنہ خطرات کے آگے بند باندھنا چاہتی ہے۔

ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق شہباز شریف اور پارٹی کے کچھ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو یہ ڈیل قبول کرتے ہوئے اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ لندن چلے جانا چاہئیے اور کچھ ماہ بعد واپس آ جائیں۔

اس کے بدلے میں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نواز شریف کی سزا معطل کر دی جائے گی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو بھی ختم کر دیا جائے گا۔ تاہم نواز شریف نہ تو اسٹیبلشمنٹ پر بھروسہ کر رہے ہیں اور نہ ہی وطن چھوڑنے پر راضی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دے دیا ہے کہ وہ وطن چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے سازشی عناصر اس بات کا اعتراف کریں کہ انہوں نے نوازشریف کو سازشوں کے ذریعہ وزیراعظم ہاؤس سے نکلوایا اور 2018ء کا الیکشن بھی دھاندلی سے چرایا۔

اس حوالے سے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی لندن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف اس طرح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے جو انہیں اور مریم نواز کو پاکستان سے باہر جانے اور سیاست سے علیحدہ ہونے پر مجبور کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ قابل اعتماد نہیں ہے۔ اسحاق ڈار کے ان بیانات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین اب اعتماد کا رشتہ نہیں رہا۔

نواز شریف کو ڈیل پر قائل نہ کر سکنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے پاس اب محدود آپشنز موجود ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان ہاؤس تبدیلی میں وزیراعظم عمران خان کو عہدے سے ہٹا کر فارورڈ بلاک بنایا جا سکتا ہے جبکہ دوسری جانب شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کی مدد سے مرکز اور پنجاب میں حکومت بنا سکتے ہیں۔

دوسری آپشن یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ معیشت کو بچانے کے لیے واشنگٹن اور ریاض سے ڈالرز کی اُمید کرتے رہیں، لیکن یہ کوئی دیر پا حل نہیں ہے۔ اس سے معیشت میں استحکام تو آ سکتا ہے لیکن بہتری کی گنجائش نہیں ہوگی۔ جبکہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس آخری آپشن یہی ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ڈوبنے دیں اور نئے عام انتخابات کروا دیں۔

جبکہ کالم نگار خورشید ندیم اپنے کالم میں اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ ” کیا نواز شریف یہ بھاری پتھر اٹھا سکتے ہیں؟ کیا ڈیل کی باتیں جھوٹی ہیں؟ کیا انہوں نے راہِ عزیمت کا انتخاب کر لیا ہے؟ کیا وہ تاریخ میں زندہ رہنے کا فیصلہ کر چکے؟

آج ہماری سیاست کا سب سے بڑا اور اہم سوال یہی ہے؟ اس کے جواب میں ایک نئے دور کی نوید پوشیدہ ہے۔ امید کا کوئی چراغ، اگر کہیں روشن ہے تو وہ نواز شریف کے فیصلے میں ہے۔ اگر یہاں نہیں ہے تو پھر یہ طے ہے کہ کہیں نہیں ہے۔

میں جب یہ بات کہتا ہوں تو کچھ لوگ جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ کیسی غیر حقیقی امید ہے۔ نواز شریف اور عزیمت؟ حسبِ تربیت، لوگ ردِ عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ کوئی گالی دیتا ہے اور کوئی میری بصیرت کا ماتم کرتا ہے۔

دونوں کی دلیل ماضی کی سیاست ہے۔ ایک سرمایہ دار گھرانے کے فرد میں یہ جذبہ اور حوصلہ کہاں کہ روپے پیسے کے علاوہ کچھ سوچ سکے۔ ایک تن آسان آدمی جو اقتدار کی سیاست کرتا رہا ہے اور بعض کے خیال میں کرپشن میں لتھڑا ہے، عزیمت کا راستہ اختیار نہیں کر سکتا

نواز شریف صاحب کا ماضی میری نظروں سے اوجھل نہیں لیکن معترضین کی نظروں سے اُن کا حال ضرور اوجھل ہے اور شاید ماضی کا ایک حصہ بھی۔ پھر کچھ مفروضے ہیں اور کچھ پوسٹ ٹروتھ۔ اس کے ساتھ انسان میں چھپے امکانات سے لاعلمی۔ کیا معلوم کون کس وقت بدل جائے؟ کوئی واقعہ اس کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دے؟ میری پُرامیدی ان عوامل کے تجزیے میں چھپی ہے۔

اگست کے ‘قومی ڈائجسٹ‘ میں جاوید ہاشمی صاحب کا ایک انٹرویو شائع ہوا۔ ہاشمی صاحب کی بہادری ضرب المثل ہے۔ وہ اگر اپنے علاوہ کسی کی بہادری کا ذکر کرتے ہیں تو وہ نواز شریف ہیں۔ ان کا تجربہ یہ ہے کہ خوف نواز شریف سے دور رہتا ہے۔

ان کے بقول یہی بات انہوں نے عمران خان کو بھی بتائی تھی جب وہ دھرنے کے دنوں میں نواز شریف کے بھاگنے کی امید کیے بیٹھے تھے۔ ہاشمی صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ان پر گولی چلی ”گولی چلنے کے بعد، میاں صاحب کہنے لگے: یار! مچھلی تالاب والی بہتر ہوتی ہے یا دریا والی؟‘‘

ممکن ہے کہ میرا اندازہ غلط ہو کہ انسانوں کے دلوں کا حال خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ انسان کمزور بھی بہت ہے۔ بالخصوص اولاد تو اس کے لیے بہت بڑی آزمائش ہے۔ دولت، اقتدار، اولاد، کم ہی ہیں جو ان جالوں سے سلامت نکل پاتے ہیں۔

تاہم اس باب میں مجھے شرحِ صدر ہے کہ اگر نواز شریف صاحب نے عزیمت کے راستے کا انتخاب نہ کیا تو پھر مروجہ سیاسی بندوبست میں کسی تبدیلی کا خواب آنکھوں سے نوچ پھینکنا چاہیے۔

پاکستان کو بدلنا ہے تو ہماری سیاست میں کوئی ایک ایسا فرد ضرور ہونا چاہیے جو ماہ و سال سے بلند ہو سکے۔ اس جسدِ خاکی میں خالق نے یہ صلاحیت تو رکھی ہے کہ وہ اس تقویم سے اٹھ جائے۔ کیا نواز شریف…؟

وہ مزید لکھتے ہیں کہ اس جسدِ خاکی میں کچھ تو ایسا ہے جو اسے ماہ و سال سے اٹھاتا اور تاریخ کا ان مٹ باب بنا دیتا ہے۔

بچپن میں ایک کتاب پڑھی تھی ”سو بڑے آدمی‘‘۔ بہت بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ایک انگریزی کتاب کا ترجمہ ہے۔ پھر اس موضو ع پر اور کئی کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اب تو ہر سال، رسائل و جرائد ایسے افراد کی فہرست جاری کرتے ہیں جنہوں نے ان کے خیال میں انسانی معاشرے کو بڑی سطح پر متاثر کیا۔

یہ رجحان اتنا مقبول ہوا کہ جعل سازوں نے بھی اس طرف کا رخ کر لیا۔ آپ سو دو سو ڈالر دیں‘ اور دنیا کے کسی کونے میں چھپنے والے چیتھڑے کی سو سب سے با اثر شخصیات میں شامل ہو جائیں۔ پھر خود ہی اس جریدے کی فوٹو کاپی احباب میں بانٹتے پھریں۔

تاریخ میں زندہ رہنے کے لیے کسی رسالے کی ایسی فہرست میں شامل ہونا ضروری نہیں۔ تاریخ ساز لوگ ہوتے ہی وہ ہیں جو اس طرز کے مشاغل سے دور رہتے ہیں۔ ان کو اپنے کام کی دُھن ہوتی ہے۔ وہ کوئی ایسا کارنامہ کر جاتے ہیں کہ اکثر، ان کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد، لوگ ان کی عظمت کو پہچان پاتے ہیں۔


Add Comment

Click here to post a comment