ad

لاہور

نواز شریف : سیاست کے میدان کا سب سے طاقتور کھلاڑی


مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں نواز شریف جیل میں ہیں مگر جیل سے بیٹھ کر بھی ملکی سیاست کے اہم فیصلے وہی کررہے ہیں۔

لکھنے والے نے کیا لکھا کہ سیاست کے میدان کا سب سے طاقتور کھلاڑی آج بھی نواز شریف ہے۔

آخری فیصلہ بھی نواز شریف کا ہوگا اور آخری وار بھی نواز شریف کا ہوگا۔

پیپلزپارٹی جب سینیٹ الیکشن میں تحریک انصاف کیساتھ مل کر صادق سنجرانی کو چیئرمین شپ کیلئے ووٹ دے رہی تھی۔

اس وقت ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اسی چیئرمین کو خود ہٹاکر نواز شریف کا چیئرمین لانا پڑے گا۔

مگر وقت نے پلٹا کھایا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کوٹ لکھپت جیل کے قیدی نے فیصلہ کیا کہ چیئرمین سینیٹ کون ہوگا۔

نواز شریف کا فیصلہ پیپلزپارٹی نے بخوشی تسلیم بھی کرلیا۔

چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کو پہلا قدم قرار دیا جارہا ہے اس کے بعد اپوزیشن قومی اسمبلی کے اسپیکر کو بھی ناک آؤٹ کرسکتی ہے

جبکہ ایوان بالا سینیٹ میں اگر اپوزیشن اپنا اسپیکر لاتا ہے تو حکومت کیلئے قانون سازی کرنا تقریباََ ناممکن ہوجائے گا۔

ابھی تک قیاس آرائیاں تھیں کہ چیئرمین سینیٹ کیلئے پرویز رشید مصدق ملک سمیت اہم نام زیر غور ہیں

تاہم تازہ خبر یہ ہے کہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ کے لیے متفقہ امیدوار نامزد کردیاہے ۔

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں مختصر پریس کانفرنس کے دوران کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی نے

حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ کے لیے متفقہ امیدوار نامزد کرنے کا اعلان کیا۔

یہ نام نواز شریف نے تجویز کیا تھا اور اس کی منظوری بھی نواز شریف نے دی تھی۔

اس حوالے سے اکرم درانی نے کہا کہ سب اپوزیشن جماعتیں میر حاصل بزنجو کو ووٹ دیں گی،

چیئرمین سینیٹ کے لیے حاصل بزنجو کا نام سب نے اتفاق رائے سے تجویز کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ اپوزیشن کی 9 جماعتوں نے میر حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ نامزد کیا ہے

جب کہ پیپلزپارٹی کے سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ رہیں گے اور (ن) لیگ کے راجہ ظفر الحق سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر کام کرتے رہیں گے

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ کے قائد سابق وزیراعظم نوازشریف نے اپنی پارٹی کی طرف سے حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ کا متفقہ امیدوار نامزد کرنے کی منظوری دی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ نوازشریف نے بلوچستان کو حق دینے کیلئے حاصل بزنجو کا نام تجویز کیا۔

میر حاصل بزنجو کی نامزدگی خاصی معنی خیز ہے ان کا بیانیہ بھی وہی ہے جو کوٹ لکھپت جیل کے قیدی اور تین بار پاکستان کے وزیراعظم رہنے والے میاں محمد نواز شریف کا ہے۔

یہاں ایک بات کا زکر ضروری ہے کہ اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد سینیٹ میں جمع کراچکی ہے

اور صادق سنجرانی کی چھٹی تقریباََ کنفرم ہے۔

حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلانے سے متعلق اپوزیشن کی 9 سیاسی جماعتوں کے 11 اراکین پر مشتمل رہبر کمیٹی نے

چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد اپوزیشن اراکین نے سیکریٹری سینیٹ کے دفتر میں جمع کرائی۔

پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان نے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی قرارداد پر 44 ارکان نے دستخط کیے ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا ہےکہ ایوان اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ موجودہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ایوان کے ممبران کا اعتماد کھو چکے ہیں،

چیئرمین سینیٹ ایوان کے کسٹوڈین کے طور پر اعتماد نہیں رکھتے۔

رہبر کمیٹی نے نیا چیئرمین سینیٹ (ن) لیگ سے ہونے کی منظوری دیدی اپوزیشن کی جانب سے سینیٹ کا اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن بھی جمع کرادی گئی ہے۔

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے چیئرمین سینیٹ کا منصب مسلم لیگ (ن)کو دینے پر اتفاق کیا تھا۔