ad

لاہور

ویڈیو درست ثابت ہوئی تو نواز شریف کیخلاف فیصلہ بھی ختم ہوجائے گا


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر قانون رشید اے رضوی نے کہا ہےکہ

جج کے خلاف تو کارروائی ہو گی لیکن فیصلہ تعصب کا نتیجہ ہوگیا

تو وہ بھی ختم ہو جائے گا، فارنزک آڈٹ تک سچے اور جھوٹے کا پتہ نہیں چلے گا،

ماہر قانون علی ظفر نے کہا کہ ویڈیو درست نکلنے پر بھی نواز شریف کو اپیل میں فائدہ نہیں ہوگا،جب تک معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچا جاتا

جج اہم کیسوں کی سماعت نہ کریں ،وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ مریم نواز کی باتوں کواہمیت نہیں دیتے

وہ سزایافتہ اور ضمانت پر ہیں، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ویڈیو کا معاملہ عدلیہ کو بدنام کرنے یا خود کو بری کروانے کی کوشش نہیں ہے۔

سنیئر تجزیہ کار حامد میرنے کہاکہ عدلیہ کو یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لے کر منطقی انجام تک پہنچانا چاہئے،

میزبان شاہز یب خانزادہ کے سوال کہ یہ معاملہ گمبھیر ہوگیا ہے،حکومت نے پہلے پوزیشن لے لی تھی کہ ہم یہ فارنزک آڈٹ کروائیں گے،

یہ سب جھوٹ ہے اور باتیں ہیں، اب حکومت کہہ رہی ہے کہ عدلیہ خود یہ معاملہ دیکھ لے، ن لیگ بھی کہہ چکی تھی کہ سوموٹو ہو،

آپ سمجھتے ہیں کہ اس کا کیا way out ہے؟ماہرقانون رشید اے رضوی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں جیسے آصف زرداری کے کیس میں ہوا تھا

کہ appealant نے خود ایک miscellaneous application کے ذریعہ یہ تمام ریکارڈ اور facts and figures ریکارڈ پر لے آئے تھے،

اس وقت بینظیر صاحبہ اپیل کو prosecute کررہی تھیں، میری یادداشت کام کررہی ہے تو علی ظفر صاحب بھی اس کیس میں پیش ہوئے تھے،

انہوں نے کہا تھا کہ یہ ججمنٹ bias ہے اور جج bias تھا لہٰذا judgement set a side کی جائے اور وہ plea مانی گئی،

اب لوگوں نے کورٹ میں جانے کے بجائے پریس کانفرنس کردی ہے، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس ہائیکورٹ نے ان کیخلاف اپیل کا فیصلہ دیا ہے اور

سپریم کورٹ میں ابھی اپیل pendingہے یا سپریم کورٹ میں بھی اپیل تھی وہاں ایک miscellaneous application کے ساتھ سارے ریکارڈ یہ سارے کیسٹ آن ریکارڈ لاتے

اور کہتے کہ judgment is the result of the baist in the judge جیسا کہتے ہیں ناں کہ judgement recall ہو۔

لیکن اس کے بجائے انہوں نے اس کو سیاسی طور پر استعمال کیا ہے، اب وہ کیسے اپنا burdon حکومت یا عدلیہ پر شفٹ کرسکتے ہیں،

یہ کام تو بنیادی طور پر ان کا تھا کہ وہ جاکر آرڈر set a side کروائیں، فیصلہ ری کال کروائیں۔

شاہزیب خانزادہ نے سوال کیا کہ علی ظفر صاحب آپ کیا کہیے گا،

حکومت نے بھی کہا کہ انہیں پہلے عدلیہ کی طرف جانا چاہئے تھا لیکن انہوں نے پریس کانفرنس کردی، پریس کانفرنس کردی ہے

تو معاملہ یہ اٹھ گیا ہے کہ اس معاملہ کی تحقیقات کیسے ہو، پہلے حکومت نے پوزیشن لی تھی،

حکومت پیچھے ہٹ گئی اور اب عدالت پر ڈال دیا ہے، اس کی تحقیقات کون کرے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ نواز شریف کیخلاف ان جج صاحب نے ایک فیصلہ دیدیا ہے،

فیصلہ دینے کے بعد نواز شریف نے ایک اپیل فائل کی ہوئی ہے جو اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ میں پینڈنگ ہے،

ابھی اپیل کی سماعت پوری نہیں ہوئی کہ یہ ویڈیو منظر پر آگئی، ویڈیو کے بعد اگلے دن ہی اس ویڈیو کی جج صاحب نے تردید کردی ہے،

اس صورتحال میں سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف کو اس ویڈیو کا کوئی فائدہ ہوسکتا ہے اپیل میں یا نہیں۔

اس کا جواب سادہ ہے کہ نواز شریف کو اس ویڈیو کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ابھی اس ویڈیو کا فیصلہ ہونا ہے کہ یہ سچی ہے یا جھوٹی ہے،

یہ ویڈیو کس ماحول میں دی گئی، کیا یہ ویڈیو کسی پریشر کے تحت دی گئی وغیرہ وغیرہ۔ اس چیز کی تحقیقات اپیلیٹ کورٹ نہیں کرسکتا،

چونکہ نیب کورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ماتحت ہے تو یہ ضروری ہے کہ

اسلام آباد ہائیکورٹ ہی خود ڈسپلنری یا administrative side پر اس کی تحقیقات کروائے اور پتا کرائیں کہ یہ ویڈیو درست ہے یا نہیں۔ اس کے بعد آپ کا سوال ہونا چاہئے کہ

اگر یہ ویڈیو درست نہیں نکلتا تو کیا ہوگا اور درست نکلتا ہے تو کیا ہوگا۔

اگر ویڈیو درست نکلتی ہے تو نواز شریف کی اپیل میں تو ان کو فائدہ نہیں ہوگا لیکن جج صاحب کی ڈسپلنری پروسیڈنگ ضرور ہوسکتی ہے،

انہیں ان کے آفس سے ہٹایا جانا ہوگا، لیکن اگر جج صاحب کسی وقت یہ تسلیم کرلیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں نے جو ججمنٹ دی تھی

پ وہ کسی پریشر کے تحت دی تھی صرف اس سچویشن میں نواز شریف کو فائدہ ہوسکتا ہے اس سارے معاملہ کا اپیل میں قانونی طور پر۔

اگر یہ ویڈیو جھوٹی ثابت ہوتی ہے تو اس کا ری ایکشن ان لوگوں پر ہوسکتا ہے، توہین عدالت بھی ہوسکتی ہے جن لوگوں نے اسے جاری کیا۔

شاہز یب خانزادہ نے سوال کیا کہ رضوی صاحب آپ کیا کہیں گے اگر یہ غلط ثابت ہوتی ہے یا صحیح ثابت ہوتی ہے جو علی ظفر صاحب کہہ رہے ہیں،

ان دونوں کا کیا نتیجہ نکلے گا نواز شریف کے فائدے کی صورت میں اور نقصان کی صورت میں بھی؟

رشید اے رضوی نے کہا کہ میں علی ظفر صاحب سے اختلاف کروں گا،

اگر یہ صحیح ثابت ہوتی ہے تو جج کیخلاف یقیناً مس کنڈکٹ اور removal کی پروسیڈنگز ہوں گی before expiry of his tenure لیکن اگر یہ اپیلیٹ کورٹ میں ثابت کردیتے ہیں کہ

یہ result of bias in a judge ہے تو یہ ججمنٹ بھی اسٹینڈ نہیں کرسکتی۔